بدھ, فروری 18, 2026
ہومپاکستاناسٹیل سیکٹر تباہی کے خطرے سے دوچار

اسٹیل سیکٹر تباہی کے خطرے سے دوچار
ا

دانشگاه (نیوز ڈیسک) اسلام آباد: پاکستان کا اسٹیل سیکٹر حکومت کی جانب سے معیشت کو غیر ملکی مقابلے کے لیے کھولنے کے فیصلے کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہے۔ پارلیمانی جائزے میں نئے ٹیرف منصوبے کی بنیاد میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جس کے تحت تحفظاتی اقدامات میں 52 فیصد تک کمی کی جا رہی ہے۔

پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج اسٹیل پروڈیوسرز (PALSP) کے سرپرست اعلیٰ عباس اکبر علی نے جمعہ کے روز خبردار کیا کہ اگر مجوزہ نیشنل ٹیرف پالیسی نافذ کی گئی تو پاکستان میں مقامی پیداوار کی بجائے درآمدی اسٹیل کی تجارت کو فروغ ملے گا، جس کے نتیجے میں مقامی صنعت بند ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پالیسی اگر لاگو ہوئی تو سالانہ 1 ارب ڈالر مالیت کی اسٹیل درآمد کرنا پڑے گی اور تقریباً 20 لاکھ روزگار خطرے میں پڑ جائیں گے۔

ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید اقبال ملک نے کہا کہ اسٹیل سیکٹر کو اس وقت 53 فیصد تحفظ حاصل ہے جو مجوزہ پالیسی کے پانچویں سال تک گھٹ کر صرف 10 فیصد رہ جائے گا، حالانکہ صنعت کو کم از کم 38 فیصد تحفظ درکار ہے۔

جاوید ملک کے مطابق، ایسوسی ایشن نے وزیرِاعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت ہارون اختر خان سے ملاقات کی، جنہوں نے خدشات تسلیم کیے مگر بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیرِاعظم کی انڈسٹریل کمیٹی نے بھی ان کی شنوائی سے انکار کر دیا۔

کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ پانچ سالہ منصوبے کے تحت اوسط ٹیرف 20.2 فیصد سے کم ہو کر 9.7 فیصد پر آ جائے گا، یعنی 52 فیصد کمی۔ مالی سال 2025-26 میں ٹیرف مزید کم ہو کر 15.7 فیصد رہ جائے گا، جس میں کسٹمز ڈیوٹی 11.2 فیصد، ایڈیشنل ڈیوٹی 1.8 فیصد اور ریگولیٹری ڈیوٹی 2.7 فیصد ہو گی۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اصلاحات عالمی بینک کے Global Trade Analysis Project (GTAP) ماڈل پر مبنی ہیں۔ اس ماڈل کی بنیاد پر پیش گوئی کی گئی ہے کہ برآمدات میں 10-14 فیصد جبکہ درآمدات میں 5-6 فیصد اضافہ ہو گا، جبکہ تجارتی خسارہ صرف 7 فیصد کم ہو گا۔

تاہم، قائدِ حزب اختلاف عمر ایوب خان نے اس ماڈل کو ناقص قرار دیا اور کہا کہ یہ جامد (static) ہے، محدود ٹیرف لائنز پر مبنی ہے، اور اس میں کئی اہم معاشی متغیرات کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کو بھی ناقابلِ اعتماد قرار دیا۔

پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر نے عمر ایوب سے کہا کہ وہ اپنی تحریری سفارشات کمیٹی میں جمع کروائیں۔

عباس اکبر علی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹیرف میں نرمی کا عمل کم از کم ایک سال کے لیے مؤخر کرے، تاکہ صنعت کو مستحکم ہونے کا وقت مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پالیسی کے نتیجے میں ملکی اسٹیل صنعت کا پہیہ رک جائے گا، 4,000 میگاواٹ بجلی جو اس وقت صنعت میں استعمال ہو رہی ہے، ضائع ہو گی، اور درآمدی بل بڑھنے سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مزید گہرا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹیرف دراصل صنعت کو تحفظ نہیں دیتے بلکہ صرف ریاستی کنٹرول میں مہنگی انرجی لاگت کا ازالہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بجلی کی قیمت فی یونٹ 40 روپے کے بجائے 20 روپے ہو جائے تو مقامی صنعت عالمی سطح پر بھی مقابلہ کر سکتی ہے۔ فی ٹن لاگت صرف بجلی کی وجہ سے 50,552 روپے بڑھ چکی ہے۔

عباس کے مطابق، اسٹیل صنعت کسی تحفظ کی بھیک نہیں مانگ رہی۔ اس نے 100 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری سے جدید یورپی ٹیکنالوجی اپنا رکھی ہے اور خطے میں مسابقتی صلاحیت رکھتی ہے۔

جاوید ملک نے کہا کہ بھارت، جو دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اسٹیل تیار کنندہ ہے، نے حال ہی میں اپنے اسٹیل سیکٹر کو مزید تحفظ دیا ہے۔ بنگلہ دیش میں 90 فیصد تحفظ حاصل ہے جبکہ پاکستان میں صرف 43 سے 57 فیصد۔ اس کے علاوہ، بنگلہ دیش فی ٹن معمولی سیلز ٹیکس لیتا ہے جبکہ پاکستان میں یہ 38,000 روپے ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اسٹیل مل 2.4 ملین ٹن کی گنجائش رکھتی ہے، جبکہ پاکستان کی سب سے بڑی 1.1 ملین ٹن کی اسٹیل مل بند پڑی ہے۔

عباس کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ ٹیرف میں کمی سے قبل خام لوہے (Iron Ore) کے حصول سے متعلق اقدامات کرتی، تاکہ خام مال کی دستیابی، لاگت میں کمی، کوالٹی میں بہتری، اور عالمی مسابقت میں اضافہ ہو۔

پاکستان کی کل اسٹیل پیداوار صرف 6 ملین ٹن ہے، جبکہ ایران کی 35 ملین، بھارت کی 100 ملین اور چین کی 900 ملین ٹن سالانہ ہے۔ بھارت، چین، روس اور ایران میں ریاستی ملکیتی آئرن اور مائننگ کمپنیاں موجود ہیں جو نجی شعبے کو سستا خام مال فراہم کرتی ہیں — فی ٹن تقریباً 30 ڈالر میں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین