دانشگاه (نیوز ڈیسک) اسلام آباد: پاکستان، چین اور بنگلہ دیش نے خطے میں بڑھتے ہوئے تعاون کے تناظر میں ایک نیا سہ فریقی فورم قائم کر دیا ہے، جسے جنوبی ایشیا میں نئی صف بندیوں کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ پہلا سہ فریقی اجلاس 19 جون کو چین کے صوبہ یونان کے شہر کنمنگ میں منعقد ہوا، جس میں چین کے نائب وزیر خارجہ سن وی ڈونگ، بنگلہ دیش کے قائم مقام خارجہ سیکریٹری روحُ الاسلام صدیقی، اور پاکستان کے ایڈیشنل سیکریٹری برائے ایشیا پیسیفک عمران احمد صدیقی شریک ہوئے۔ پاکستان کی سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے اجلاس کے ابتدائی مرحلے میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ واجد کی پندرہ سالہ حکومت کے دوران پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کشیدہ رہے، جبکہ چین کے ساتھ بھی ڈھاکہ کے روابط محدود تھے۔ تاہم اگست 2024 میں حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد پاک-بنگلہ تعلقات میں غیر معمولی بہتری آئی ہے اور چین نے بھی اپنی سفارتی و اقتصادی سرگرمیوں کو وسعت دینا شروع کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق، سہ فریقی فورم کے قیام کے پیچھے تینوں ممالک کی کئی ماہ کی پس پردہ کوششیں شامل ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت بھارت کے لیے باعثِ تشویش ہو سکتی ہے، جسے حسینہ حکومت کی برطرفی کے بعد علاقائی سفارتی سطح پر دھچکا لگا ہے۔
تاہم تینوں ممالک نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں بلکہ باہمی تعاون اور ترقی کے فروغ کے لیے ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق، نائب وزیر خارجہ سن وی ڈونگ نے اپنے خطاب میں ہمسایہ ممالک کے ساتھ “مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے” کی تشکیل پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش چین کے "اچھے ہمسائے، اچھے دوست اور بیلٹ اینڈ روڈ کے اعلیٰ معیار کے شراکت دار” ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ تینوں ممالک گلوبل ساؤتھ کے اہم رکن ہیں اور قومی ترقی و جدیدیت کے مشترکہ مشن کے حامل ہیں۔ سہ فریقی تعاون نہ صرف عوام کی اجتماعی خواہشات کا مظہر ہے بلکہ خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے ناگزیر بھی ہے۔
اجلاس میں وفود نے صنعتی ترقی، تجارت، سمندری امور، آبی وسائل، زراعت، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم، نوجوانوں کے تبادلے، صحت، تھنک ٹینکس کے درمیان تعاون اور افرادی قوت کی ترقی جیسے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی۔
تینوں ممالک نے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر اتفاق کیا، جو اجلاس میں طے پانے والی تجاویز اور مفاہمتوں پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گا۔
فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ پاک-چین-بنگلہ دیش سہ فریقی تعاون باہمی اعتماد، ہمسائیگی، شمولیت اور مشترکہ ترقی کے اصولوں پر مبنی ہوگا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ فریم ورک حقیقی کثیرالجہتی اور کھلے علاقائی تعاون کے اصولوں کے مطابق ہے اور کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، کنمنگ میں ہونے والا یہ اجلاس علاقائی سفارت کاری کے ایک نئے دور کا آغاز ہے، جس میں چین دو طرفہ تعلقات سے بڑھ کر وسیع البنیاد شراکت داری کی جانب بڑھ رہا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ اجلاس مستقبل میں چین کی قیادت میں جنوبی ایشیا میں ترقی پر مبنی سفارتی اقدامات کی بنیاد بن سکتا ہے۔

