بدھ, فروری 18, 2026
ہومپاکستانمحرم الحرام کے دوران پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ — اسلحہ...

محرم الحرام کے دوران پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ — اسلحہ کی نمائش اور آتش بازی پر مکمل پابندی
م

دانشگاه (نیوز ڈیسک) لاہور: پنجاب حکومت نے محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورت حال برقرار رکھنے اور فرقہ وارانہ کشیدگی سے بچنے کے لیے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق، یہ پابندی یکم محرم سے 10 محرم تک مؤثر رہے گی، جس کے تحت اسلحے کی نمائش، آتش بازی اور ایسے مواد کی اشاعت یا تقسیم پر مکمل پابندی ہوگی جو مذہبی یا فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دے سکتا ہو۔ ایسی کسی بھی سرگرمی کے لیے انتظامیہ سے پیشگی اجازت لینا لازم قرار دیا گیا ہے۔

9 اور 10 محرم کو موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کی جائے گی، تاہم بزرگ شہری، خواتین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی نئے جلوس کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی روایتی مجالس یا جلوسوں کے روٹس میں کوئی تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع سے فرقہ وارانہ یا لسانی نفرت پھیلانے والے بیانات یا مواد پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

پنجاب حکومت نے ہدایت جاری کی ہے کہ جلوسوں کے راستوں پر گھروں یا دکانوں کی چھتوں پر چبوترے بنانے، پتھر، بوتلیں یا دیگر مشکوک اشیاء جمع کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، اور جلوس کے دوران لوگوں کو چھتوں یا دکانوں کی منڈیر پر کھڑا ہونے سے روکا جائے گا۔

ڈبل سواری پر پابندی صرف 9 اور 10 محرم کو نافذ ہوگی، جبکہ باقی تمام پابندیاں پورے عشرہ محرم کے دوران لاگو رہیں گی۔

دوسری جانب، صوبائی دارالحکومت لاہور میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ڈولفن اسکواڈ اور پولیس ریسپانس یونٹ کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ محرم کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

حال ہی میں، ڈولفن فورس نے ملتان روڈ پر ایک مشکوک سیاہ شیشوں والی گاڑی سے اسلحہ برآمد کر کے پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ملزمان میں کاشف علی، محمد راحت، عظیم انور، محمد منسب اور بشارت علی شامل ہیں جنہیں مزید قانونی کارروائی کے لیے چو ہنگ تھانے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

پنجاب حکومت اس سے قبل بھی محرم کے لیے ایک جامع سیکیورٹی پلان تشکیل دے چکی ہے، جس میں ڈیجیٹل نگرانی، مختلف اداروں کے مابین رابطہ کاری، اور انفراسٹرکچر کی سیکیورٹی شامل ہے تاکہ صوبے بھر میں مذہبی تقریبات پرامن طریقے سے منعقد ہو سکیں۔

محکمہ داخلہ کے مطابق، محرم کا آغاز 26 یا 27 جون کو متوقع ہے جو چاند کی رؤیت سے مشروط ہوگا۔ اس سلسلے میں ایک ڈیجیٹل پورٹل بھی فعال کر دیا گیا ہے جس کے ذریعے مجالس، جلوسوں کے روٹس اور حساس مقامات کی نگرانی کی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پانچ دن کے اندر متعلقہ ڈیٹا اس نظام میں اپ لوڈ کریں۔ اس پورٹل کا انتظام محکمہ داخلہ کے ایم آئی ایس سیکشن سے کامران تاج کریں گے۔

سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے، محکمہ داخلہ نے پاک فوج اور پنجاب رینجرز کی تعیناتی کی باضابطہ درخواست بھی دی ہے، جس کے ساتھ مطلوبہ مقامات اور تعیناتی کے اوقات کی تفصیل بھی طلب کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، حساس علاقوں میں موبائل سروس کی بندش (سگنل جامنگ) کے لیے بھی سفارشات ارسال کی گئی ہیں۔

فرقہ وارانہ کشیدگی سے بچنے کے لیے حکومت نے واضح ہدایت جاری کی ہے کہ غیر شیعہ مذہبی اجتماعات کو شیعہ تقریبات سے الگ اور فاصلے پر منعقد کیا جائے گا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین