دانشگاه (نیوز ڈیسک) اسلام آباد: وفاقی بجٹ 2025-26 کے نفاذ سے قبل ہی گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں اچانک اور غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے مہنگائی کے ستائے عوام کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، متعدد خوردنی تیل بنانے والی کمپنیوں نے بجٹ کی منظوری کا انتظار کیے بغیر ازخود قیمتوں میں 10 سے 20 روپے فی کلو تک اضافہ کر دیا ہے۔ اس اضافے کے بعد ایک کلو کا پاؤچ، جو پہلے 550 روپے میں دستیاب تھا، اب کئی علاقوں میں 560 سے 570 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ شہریوں نے اس خودساختہ اضافے پر سخت تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان وانسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری فرید قریشی کے مطابق، چند کمپنیوں نے بجٹ کے نفاذ سے قبل ہی ازخود قیمتیں بڑھا دی ہیں، حالانکہ سرکاری طور پر بجٹ کا اطلاق ابھی تک عمل میں نہیں آیا۔
ماہرین معاشیات اور صارفین کے حقوق کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ ملک میں مؤثر پرائس کنٹرول سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے منافع خور عناصر کو کھلی چھوٹ حاصل ہے، جو من مانی قیمتیں مقرر کرتے ہیں، اور اس کا بوجھ براہ راست عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔

