حکومت کا پاور سیکٹر کے گردشی قرض کیلئے 1.275 کھرب روپے کا اسلامی قرضہ، 18 بینک شامل
کراچی: پاکستان نے توانائی کے شعبے کے بڑھتے ہوئے گردشی قرض کو کم کرنے کے لیے 18 کمرشل بینکوں کے ساتھ 1.275 کھرب روپے (4.5 ارب ڈالر) کے اسلامی مالیاتی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ معاہدہ اسلامی اصولوں کے مطابق کیا گیا ہے، جس کے تحت قرض کی واپسی چھ سال میں 24 سہ ماہی اقساط میں ہوگی۔ وزیر توانائی اویس لغاری کے مطابق یہ قرض عوامی قرض میں اضافہ نہیں کرے گا اور اس پر 3 ماہ کا KIBOR مائنس 0.9 فیصد شرح سود لاگو ہو گی، جو کہ آئی ایم ایف کی منظوری کے مطابق طے کی گئی ہے۔
پس منظر:
- حکومت کو پاور سیکٹر میں گردشی قرض، واجبات، اور سبسڈی جیسے مسائل کا سامنا ہے
- نقدی کی قلت سے سپلائی متاثر، سرمایہ کاری رکی اور مالی دباؤ میں اضافہ ہوا
- موجودہ واجبات پر KIBOR + 4.5٪ تک کا سود لاگو ہے، جو اس نئے قرض سے کہیں زیادہ مہنگا ہے
- سالانہ 323 ارب روپے کی ادائیگی کا تخمینہ، چھ سال میں زیادہ سے زیادہ ادائیگی 1.938 کھرب روپے تک محدود

