بدھ, فروری 18, 2026
ہومپاکستانحکومت نے پانچ سال پرانے گاڑیوں کی تجارتی درآمد کی اجازت دے...

حکومت نے پانچ سال پرانے گاڑیوں کی تجارتی درآمد کی اجازت دے دی
ح

حکومت نے پانچ سال پرانی گاڑیوں کی تجارتی درآمد کی اجازت دے دی

اسلام آباد: حکومت نے تین سال پرانی گاڑیوں کی موجودہ حد کو بڑھاتے ہوئے پانچ سال پرانی استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد کی اجازت دے دی ہے۔

یہ اعلان سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کی۔ سیکریٹری تجارت جواد پال نے کمیٹی کو بتایا کہ بیگیج اسکیم کے تحت پرانی گاڑیوں کی درآمد کی مدت تبدیل نہیں کی گئی، اور بیرون ملک مقیم پاکستانی بدستور تین سال پرانی گاڑیاں ہی درآمد کر سکیں گے۔ تاہم، یکم ستمبر 2025 سے تجارتی بنیاد پر پانچ سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت ہو گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایسے تجارتی درآمد کنندگان پر 40 فیصد اضافی درآمدی ڈیوٹی عائد کی جائے گی، جبکہ مجموعی ٹیرف کو 90 فیصد سے کم کرکے 50 فیصد کر دیا گیا ہے۔ آئندہ چار سالوں میں یہ اضافی 40 فیصد ڈیوٹی مرحلہ وار ختم کر دی جائے گی۔

حکومت مستقبل میں چھ سے سات سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی بھی اجازت دینے کا ارادہ رکھتی ہے، تاہم مقدار اور ماحولیاتی معیار پر سختی سے عمل کیا جائے گا تاکہ پرانی گاڑیاں ماحول کے لیے مسائل پیدا نہ کریں۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے تجویز دی کہ بیگیج اسکیم اور کمرشل درآمد دونوں کے لیے گاڑیوں کی عمر کی حد یکساں پانچ سال ہونی چاہیے تاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی یکساں سہولت ملے۔ تاہم، سیکریٹری تجارت نے نشاندہی کی کہ گفٹ اسکیم کا غلط استعمال ہو رہا ہے، جس کے باعث اسے محدود کرنے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے دس ملین روپے سے زائد پنشن کو 5 فیصد ٹیکس نیٹ میں لانے کی منظوری دے دی ہے۔ کمیٹی نے بینکنگ سیکٹر کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس کے ساتویں شیڈول میں ترامیم کی بھی منظوری دی، جن کے تحت نادہندہ قرضوں اور کرایہ پر حاصل شدہ عمارتوں سے متعلق ٹیکس چھوٹ ختم کی جا رہی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین