پاکستان کا اقوام متحدہ سے ایران-اسرائیل تنازع ختم کرانے کا مطالبہ
پاکستانی سفیر کا سلامتی کونسل سے فوری مداخلت، سفارت کاری کے فروغ اور خطے میں جنگ روکنے کا مطالبہ
جنیوا، 21 جون 2025: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپیل کی ہے کہ وہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع میں فوری مداخلت کرے تاکہ خطے میں ممکنہ طور پر پھیلتی جنگ کو روکا جا سکے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر آصف افتخار احمد نے ہنگامی اجلاس کے دوران کہا: یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے، سلامتی کونسل کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے فوری طور پر مذاکرات اور سفارت کاری کو فروغ دینا چاہیے۔
اسرائیلی حملے اور علاقائی کشیدگی:
پاکستانی مندوب نے اسرائیلی حملوں کو ایران کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور کہا کہ:ہم ایران کے بے گناہ شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر دلی تعزیت کرتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ فوجی طاقت سے پائیدار حل ممکن نہیں، صرف مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیلی حملے ایک ایسے وقت ہو رہے ہیں جب ایران کے جوہری پروگرام پر سفارتی کوششیں جاری تھیں، اور یہ کارروائیاں ان مذاکرات کو سبوتاژ کر سکتی ہیں۔
سلامتی کونسل سے پاکستانی مطالبات:
سفیر آصف افتخار نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ:
- 13 جون سے جاری اسرائیلی حملوں کی کھلے الفاظ میں مذمت کرے،
- جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے جیسے غیر قانونی اقدامات کو مسترد کرے،
- خطے میں جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرے،
- اور مذاکرات کے فروغ کے لیے موثر اقدامات کرے۔ سفارت کاری کو ایک موقع ضرور دینا چاہیے۔ — سفیر آصف افتخار
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تنبیہ:
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اجلاس کے آغاز میں خبردار کیا کہ ایران-اسرائیل جنگ اگر پھیلی تو یہ ایک ایسا شعلہ بن جائے گا جسے کوئی نہیں بجھا سکے گا۔ یہ وہ لمحہ ہے جب فیصلے نہ صرف قوموں کی تقدیر بلکہ ہماری مشترکہ بقا کا تعین کریں گے۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ امن کو موقع دیا جائے۔
دیگر عالمی ردعمل:
- چین اور روس نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
- روس نے خبردار کیا کہ اسرائیلی حملے تنازع میں دیگر ممالک کو گھسیٹ سکتے ہیں اور ایک خطرناک ایٹمی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
- امریکی سفیر نے اسرائیل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے جوہری عزائم کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
- ایرانی سفیر نے کہا: ایران اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
- اسرائیلی سفیر نے کہا:ہم نہیں رکیں گے، جب تک ایران کا جوہری خطرہ اور جنگی مشین ختم نہیں ہو جاتی۔
پس منظر:
اسرائیل نے حالیہ دنوں میں ایران میں فوجی، جوہری اور شہری اہداف پر بمباری کی ہے، جس سے اب تک 224 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایران نے جوابی حملوں میں 25 اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جوہری ایجنسی (IAEA) نے خبردار کیا ہے کہ ایٹمی تنصیبات پر حملے تباہ کن ریڈیائی اثرات کا باعث بن سکتے ہیں۔

