بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیامریکی جج کا فلسطین کے حامی محمود خلیل کی رہائی کا حکم

امریکی جج کا فلسطین کے حامی محمود خلیل کی رہائی کا حکم
ا

ایک امریکی وفاقی جج نے فلسطینی حامی کارکن محمود خلیل کی رہائی کا حکم دے دیا، جنہیں مارچ سے امیگریشن حکام نے حراست میں لے رکھا تھا۔ خلیل پر کوئی جرم عائد نہیں کیا گیا، مگر ان کی گرفتاری کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطینی حقوق کے احتجاج میں شرکت کے بعد ہوئی۔

خلیل کی رہائی کا فیصلہ نیو جرسی کی عدالت نے سنایا، جبکہ امیگریشن عدالت میں ان کی ملک بدری کا کیس الگ جاری رہے گا۔ عدالت نے حکومت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے رہائی کا حکم برقرار رکھا۔

ACLU کے مطابق، یہ فیصلہ اظہارِ رائے کی آزادی کے تحفظ کی فتح ہے۔ خلیل کی بیوی نے کہا کہ تین مہینے بعد ہم سکون کا سانس لے سکتے ہیں۔ خلیل کو اپنے بیٹے کی پیدائش دیکھنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی۔

امریکی وزارت داخلہ نے اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ امیگریشن معاملات میں فیصلے کا اختیار امیگریشن جج کو ہے، نہ کہ ضلعی جج کو۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ محمود خلیل کی گرفتاری امریکی آئین کی پہلی ترمیم (آزادیٔ اظہار) کی خلاف ورزی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کو تنقید کا سامنا ہے کہ اس نے امیگریشن حکام کو سادہ لباس اور بعض اوقات نقاب میں طلبہ کو گرفتار کرنے کے لیے بھیجا، بجائے اس کے کہ وہ ملک بدری کے خلاف قانونی عمل کے دوران آزاد رہتے۔

خلیل جیسے کئی دیگر طلبہ کو بھی وفاقی عدالتوں نے رہا کرنے کا حکم دیا ہے، جن میں ترکی کی اسکالر رومیصہ اوزترک اور کولمبیا یونیورسٹی کے محسن مہداوی شامل ہیں۔

اوزترک کو اسرائیلی مظالم میں ملوث کمپنیوں سے بائیکاٹ کے مطالبے پر لکھے گئے مضمون پر حراست میں لیا گیا تھا۔

خلیل، جو اپنی امریکی شہریت رکھنے والی اہلیہ کے ساتھ نیویارک میں مقیم تھے، کو لوزیانا کے دیہی علاقے میں قید رکھا گیا تاکہ ان کے اہلِ خانہ اور وکیلوں سے دور رکھا جا سکے، اور انہیں قدامت پسند علاقے میں منتقل کیا جا سکے۔

الجزیرہ کی رپورٹر کمبرلی ہالکیٹ کے مطابق، خلیل کی رہائی ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک دھچکا ہے۔ اُنہوں نے کہا:خلیل آزادیٔ اظہار کے حق میں آواز بلند کرنے والوں کے لیے ایک علامتی شخصیت بن چکے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین