بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیفلسطین کے حامی کارکن برطانیہ کے فوجی اڈے میں داخل ہو گئے

فلسطین کے حامی کارکن برطانیہ کے فوجی اڈے میں داخل ہو گئے
ف

فلسطین کے حامی کارکنوں نے وسطی انگلینڈ میں واقع ایک رائل ایئر فورس (RAF) کے فوجی اڈے میں گھس کر دو فوجی طیاروں کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ اقدام برطانوی حکومت کی غزہ پر اسرائیلی جنگ کی حمایت کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا گیا۔

تحریک فلسطین ایکشن نے کہا کہ اس کے دو ارکان آکسفورڈشائر میں واقع RAF بَرائیز نارٹن فوجی اڈے میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے وائیوئجر (Voyager) طیاروں کے انجنوں میں پینٹ اسپرے کیا اور انہیں آہنی سلاخوں سے نقصان پہنچایا۔

جمعہ کو جاری ایک بیان میں گروپ نے کہا:اسرائیلی حکومت کی عوامی سطح پر مذمت کے باوجود، برطانیہ مسلسل فوجی سامان بھیج رہا ہے، غزہ پر جاسوس طیارے اڑا رہا ہے اور امریکی/اسرائیلی جنگی جہازوں کو ایندھن فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا: برطانیہ صرف شریک جرم نہیں بلکہ غزہ میں نسل کشی اور مشرق وسطیٰ میں جنگی جرائم میں براہِ راست شریک ہے۔

ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ دو افراد الیکٹرک اسکوٹروں پر سوار ہو کر برائیز نارٹن اڈے میں داخل ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک نے آگ بجھانے والے سلنڈر کو دوبارہ استعمال میں لا کر طیارے کے ٹربائن انجن میں سرخ پینٹ اسپرے کیا۔ گروپ نے بتایا کہ یہ سرخ رنگ فلسطینیوں کے خون کی نمائندگی کرتا ہے، جو رن وے پر بھی اسپرے کیا گیا، اور موقع پر ایک فلسطینی پرچم بھی چھوڑا گیا۔

گروپ کا کہنا ہے کہ کارکن بغیر کسی کی نظروں میں آئے فوجی اڈے سے نکلنے میں کامیاب رہے اور گرفتاری سے بچ گئے۔

وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اس واقعے کو شرمناک توڑ پھوڑ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ وزارتِ دفاع اور پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا: ہماری مسلح افواج برطانیہ کا بہترین چہرہ ہیں۔ وہ ہماری حفاظت کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالتی ہیں۔ ان کی فرض شناسی، لگن، اور بے لوث قربانی ہم سب کے لیے باعثِ فخر ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کا بھرپور ساتھ دیں۔

دفاعی وزیر جان ہیلی نے اس واقعے کی باقاعدہ تحقیقات اور ملک بھر کے فوجی اڈوں کی سیکیورٹی کا جامع جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔

اس ماہ کے آغاز میں فلسطین کے حامی مظاہرین نے لندن میں برطانوی پارلیمنٹ کے باہر جمع ہو کر اسرائیلی حکومت پر مکمل اسلحہ پابندی اور سخت پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔

برطانیہ میں قائم تنظیم کیمپین اگینسٹ آرمز ٹریڈ (CAAT) نے انکشاف کیا کہ ستمبر 2024 میں عارضی اسلحہ پابندی کے اعلان کے باوجود برطانیہ نے اسرائیل کو فوجی سازوسامان کے لائسنس میں اضافہ کیا۔

حکومت نے F-35 جنگی طیاروں کے پرزہ جات کی ترسیل روکنے سے بھی انکار کیا، یہ کہتے ہوئے کہ اس سے بین الاقوامی امن و سلامتی پر گہرا اثر پڑے گا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین