دانشگاه (نیوز ڈیسک) مشرق وسطیٰ – فلسطینی ڈاسپورا ایسوسی ایشن کے سربراہ خالد السعدی نے اسلامی جمہوریہ ایران اور صہیونی حکومت کے درمیان جاری محاذ آرائی میں توازنِ قوت کی تبدیلی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ جو کبھی ایران کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش تھی، اب وہ خود صہیونی وجود کے لیے وجودی خطرہ بن چکی ہے۔
بدھ کے روز المسیرہ چینل کو دیے گئے بیان میں السعدی نے کہا کہ ایران کی جانب سے مقبوضہ علاقوں کے اندر گہرائی تک ہونے والے میزائل حملوں نے فلسطینی عوام بالخصوص غزہ کے شہریوں پر گہرا اثر چھوڑا ہے، جو ہر رات جشن مناتے ہوئے جاگتے ہیں اور ایران کے اگلے حملے کا شدت سے انتظار کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں مزاحمتی تحریکیں ایران کے ان حملوں کے بعد مزید مضبوط، پرعزم اور پُراعتماد ہو چکی ہیں، اور اب انہیں یقین ہے کہ صہیونی قبضہ، جیسا کہ سید حسن نصر اللہ نے فرمایا تھا، واقعی "مکڑی کے جال سے بھی زیادہ کمزور” ہے — ایک حقیقت جو آئندہ نسلیں یاد رکھیں گی۔
السعدی نے واضح کیا کہ ایران اس معرکے کی ابھی ابتدا پر ہے، جبکہ رپورٹوں کے مطابق صہیونی آبادکار قبرص فرار کے لیے سمندری راستوں سے فرار کی کوششوں میں لاکھوں ڈالر ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہوائی اڈے اور بندرگاہیں مکمل طور پر کھلی ہوتیں تو چالیس لاکھ سے زائد آبادکار مقبوضہ علاقوں سے فرار اختیار کر چکے ہوتے۔
انہوں نے غزہ کے عوام کی استقامت اور وقار کو صہیونی آبادکاروں کی بوکھلاہٹ کے برعکس قرار دیا، جو بچوں اور عورتوں کے قتل کے باوجود اپنی سرزمین پر ڈٹے ہوئے ہیں جبکہ ہزاروں صہیونی آبادکار فرار کی راہ اختیار کر رہے ہیں۔
السعدی نے کہا کہ صہیونی وجود مسلسل ایرانی حملوں کی صورت میں بارہ دن سے زیادہ برقرار نہیں رہ سکتا، اور اب خود اسرائیل اعتراف کر چکا ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام تباہی کے دہانے پر ہے کیونکہ انٹرسیپٹر میزائل ختم ہونے کے قریب ہیں۔
انہوں نے ایران کی مزاحمتی حکمت عملی کو دشمن کو تھکا دینے والا مؤثر حملہ قرار دیا، اور رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ ایران فتح تک لڑائی جاری رکھے گا۔
السعدی نے مزید کہا کہ ایران کی عسکری قوت کا مظاہرہ نہ صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بلکہ پوری دنیا کے لیے حیرت کا باعث بنا ہے۔ انہوں نے G7 ممالک کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ صہیونی حکومت کی نسل پرستانہ حمایت کر رہے ہیں، اور فلسطینیوں کے قتل عام میں برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہی ممالک اب ایران کے جوہری پروگرام کو بہانہ بنا کر صہیونی ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں، جبکہ درحقیقت جارحیت کرنے والا اسرائیل ہے اور ایران صرف دفاع میں ردعمل دے رہا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل منگل کے روز، ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل سید عبدالرحیم موسوی نے ایک نشریاتی خطاب میں کہا تھا کہ حالیہ کارروائیاں صرف انتباہی نوعیت کی تھیں، جبکہ اصل سزا دینے والی کارروائیاں ابھی باقی ہیں۔
انہوں نے کہا:
"ایران کی عظیم قوم نے تاریخ میں کبھی کسی جارحیت کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ ہم اس وحشیانہ حملے کے خلاف پوری قوت سے کھڑے ہوں گے اور ان شاء اللہ، صہیونی حکومت کو اس کے جرائم کی قیمت چکانا ہو گی۔”

