دانشگاه (نیوز ڈیسک) رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے بدھ کے روز اپنے پیغام میں کہا کہ ایرانی قوم مسلط شدہ جنگ کے خلاف پوری قوت سے ڈٹ کر کھڑی ہے۔
اسرائیل کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران پر مسلسل جارحیت کے تناظر میں، انہوں نے ایک براہ راست نشریاتی پیغام میں کہا کہ ایرانی قوم کسی بھی قسم کی مسلط کردہ شرط کو ہرگز قبول نہیں کرے گی۔
آیت اللہ خامنہ ای نے ایرانی عوام کے "پُرسکون، بہادرانہ اور بروقت ردعمل” کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ طرز عمل قوم کی فکری، روحانی اور سیاسی بلوغت کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا:
"ایرانی قوم نہ صرف کسی مسلط کی گئی جنگ کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہو گی بلکہ کسی مسلط کیے گئے امن کو بھی قبول نہیں کرے گی۔ یہ ایک ایسی قوم ہے جو کبھی بھی کسی بھی زبردستی کے آگے سر نہیں جھکاتی۔”
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ جنگی دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ امریکہ اگر کوئی فوجی مداخلت کرتا ہے تو اس کے ناقابلِ تلافی نتائج برآمد ہوں گے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا:
"جو لوگ دانشمند ہیں اور جو ایران، اس کی قوم اور اس کی طویل تاریخ کو بخوبی جانتے ہیں، وہ اس قوم سے دھمکی کی زبان میں بات نہیں کرتے۔ ایران کبھی نہیں جھکے گا۔”
"امریکہ کو سمجھنا ہو گا کہ اس کی جانب سے کوئی بھی فوجی جارحیت ناقابلِ واپسی نقصانات کا باعث بنے گی۔”
رہبر انقلاب کا یہ پیغام اس وقت سامنے آیا جب ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کو چھ دن ہو چکے ہیں۔ یہ بلااشتعال جنگ جمعے کے روز شروع ہوئی، جس میں ایران کے کئی اعلیٰ فوجی کمانڈرز، جوہری سائنسدان اور عام شہری شہید کیے گئے۔
پانچ دن گزرنے کے بعد بھی اسرائیلی حملے شدت اور تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔
ایران نے جمعے کی شام جوابی کارروائی کے طور پر "آپریشن ٹرو پرامس III” کا آغاز کیا، جس میں اسرائیلی حکومت کے متعدد حساس اور اسٹریٹیجک فوجی و انٹیلیجنس مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
آپریشن کے گیارہ مراحل اب تک مکمل ہو چکے ہیں، جنہوں نے صہیونی حکومت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور صہیونی آبادکاروں کو زیر زمین بنکروں میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا ہے۔
منگل کے روز، صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا الزام لگا کر اشتعال انگیزی کی کوشش کی۔ ایرانی حکام مسلسل واضح کر چکے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کا حصہ نہیں، لیکن وہ اپنی سرزمین اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر سطح پر تیار ہے۔

