بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیوعده الصادق سوئم : ایران کا تل ابیب پر میزائل حملہ

وعده الصادق سوئم : ایران کا تل ابیب پر میزائل حملہ
و

دانشگاه (نیوز ڈیسک) ایرانی مسلح افواج نے جمعرات کو آپریشن وعده الصادق سوئم کے چودھویں مرحلے کا آغاز کرتے ہوئے مقبوضہ علاقوں پر بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز کی شدید بارش کی۔

اس نئی لہر میں جدید نسل کے میزائلوں اور خودکش ڈرونز کا استعمال کیا گیا، جو اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کی کثیر پرتوں کو چیرتے ہوئے تل ابیب میں اہم اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

شدید سینسر شپ کے باوجود سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں خوفزدہ صہیونی آبادکاروں کو ایئر سائرن بجتے ہی زیر زمین پناہ گاہوں کی طرف بھاگتے دیکھا جا سکتا ہے۔

کئی رپورٹس کے مطابق، کم از کم 50 بیلسٹک میزائل فضا میں دیکھے گئے، جن میں سے بعض کو پہلی بار آپریشن وعده الصادق سوئم میں استعمال کیا گیا ہے۔

اگرچہ تل ابیب حکومت نے جانی نقصان یا مالی تباہی سے متعلق کسی قسم کی رپورٹ کی اشاعت پر پابندی لگا دی ہے، تاہم بعض ذرائع کے مطابق جمعرات کے روز ہلاکتوں کی تعداد 50 سے زائد رہی۔

اس تازہ حملے میں صہیونی حکومت کی فوجی و انٹیلی جنس عمارتوں سمیت کئی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے اس کے فضائی دفاعی نظام کی ناکامی ایک بار پھر عیاں ہو گئی۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) نے اپنے بیان میں کہا کہ جمعرات کے حملے میں اسٹریٹیجک میزائلوں اور خودکش ڈرونز کو بیک وقت استعمال کیا گیا، جن کا بنیادی ہدف صہیونی فوج کا ایک اہم کمانڈ اور انٹیلیجنس سینٹر تھا، جو ایک اسپتال کے قریب واقع ہے۔ حملہ براہ راست مؤثر رہا۔

بیان میں کہا گیا کہ ایرانی مسلح افواج کے میزائلوں کی انٹیلی جنس اور اعلیٰ ہدف شناسی کی صلاحیت اب دنیا کے سامنے ہے، اور اب پورے مقبوضہ فلسطین کو ایک عسکری قلعے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

IRGC کے مطابق، صہیونی فوج نے اپنے فوجی اڈے خالی کر دیے ہیں اور شہری علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے، جہاں اس نے اپنے غیر مؤثر فضائی دفاعی نظام اور میزائل لانچرز نصب کیے ہیں۔

بیان میں ایک بار پھر خبردار کیا گیا کہ مقبوضہ علاقوں کی فضائی حدود غیر محفوظ ہو چکی ہیں اور صہیونی حکومت مزید اقتصادی دھچکوں کو برداشت کرنے کے قابل نہیں رہی۔

گزشتہ دنوں میں ایرانی افواج نے امریکی فراہم کردہ اسرائیلی دفاعی میزائل سسٹم کو چالاک حکمت عملیوں سے چکمہ دے کر کئی بار کامیاب حملے کیے ہیں۔

اسرائیلی اخبار یدیعوت آحارونوت نے منگل کے روز رپورٹ کیا تھا کہ ایران کے جوابی حملوں کی حالیہ لہریں "غیر معمولی” ہیں اور انہوں نے اسرائیلی حکومت کو غافل اور حیران کر دیا ہے۔

آپریشن وعده الصادق سوئم میں استعمال ہونے والے نئی نسل کے میزائلوں میں خیبر شکن، فتح اور سجیل شامل ہیں۔ بدھ کو ہونے والے حملے میں سجیل میزائل استعمال کیا گیا تھا۔

بدھ کے روز IRGC نے اپنے بیان میں مقبوضہ علاقوں کے آبادکاروں کو خبردار کیا تھا کہ اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام ختم ہونے کے قریب ہیں اور اب مقبوضہ فلسطین کی فضائی حدود مکمل طور پر ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے کنٹرول میں ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ صہیونی آبادکاروں کے پاس اب زیر زمین بنکروں میں آہستہ موت یا اپنے آبا و اجداد کے اصل ممالک کو واپسی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔

ایران کے یہ جوابی حملے جمعہ سے جاری صہیونی جارحیت کے ردعمل میں کیے جا رہے ہیں، جس میں ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں، جوہری سائنسدانوں اور عام شہریوں بشمول بچوں اور خواتین کو شہید کیا گیا۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے بدھ کو اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ایرانی قوم کسی بھی مسلط شدہ جنگ کا پوری قوت سے مقابلہ کرے گی اور "کسی بھی قسم کی مسلط کردہ شرط کو قبول نہیں کرے گی۔”

منگل کے روز ایران کی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل سید عبدالرحیم موسوی نے کہا تھا کہ جمعہ سے اب تک کی تمام کارروائیاں محض انتباہی نوعیت کی ہیں، جبکہ اصل سزا دینے والے حملے ابھی باقی ہیں۔

انہوں نے کہا:

"ایران کی عظیم قوم نے تاریخ کے ہر دور میں کسی بھی جارحیت کے آگے سر نہیں جھکایا، اور اس درندگی کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہو کر **صہیونی حکومت کو اس کے جرائم کی قیمت چکانے پر مجبور کرے گی۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین