دانشگاه (نیوز ڈیسک) عراق کے اعلیٰ ترین شیعہ مذہبی پیشوا آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جاری صہیونی جارحیت اور رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو قتل کی دھمکیوں کی سخت مذمت کی ہے۔
جمعرات کی صبح جاری کردہ بیان میں آیت اللہ سیستانی نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کا کوئی بھی مجرمانہ اقدام، نہ صرف واضح دینی و اخلاقی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین اور عالمی ضوابط کی بھی کھلی پامالی ہے، جو خطے کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
حالیہ دنوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف بلا جواز اور غیر قانونی جارحیت کے نتیجے میں کئی اعلیٰ فوجی کمانڈروں، جوہری سائنسدانوں اور عام شہریوں کو شہید کیا گیا، جس کے بعد صہیونی حکومت کے عہدیداروں نے آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف براہ راست دھمکیاں دینا شروع کیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایرانی قوم اور رہبر انقلاب کے خلاف اسی نوعیت کے دھمکی آمیز بیانات دیے، جن پر اندرون و بیرون ملک شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔
آیت اللہ سیستانی نے تنبیہ کی کہ اس قسم کا کوئی بھی اقدام حالات کو مکمل طور پر قابو سے باہر کر سکتا ہے، جو نہ صرف خطے میں بڑے پیمانے پر افراتفری پھیلائے گا بلکہ تمام ممالک اور فریقین کے مفادات کو سنگین خطرات سے دوچار کرے گا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا:
"لہٰذا ہم تمام مؤثر بین الاقوامی اداروں اور حکومتوں، بالخصوص اسلامی حکومتوں سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس ظالمانہ جنگ کو روکنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائیں اور ایران کے جوہری معاملے کا ایک پرامن اور منصفانہ حل تلاش کریں، جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہو۔”
واضح رہے کہ صہیونی حکومت نے جمعہ کی صبح سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اپنی جارحانہ کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں، جن کے جواب میں ایران نے آپریشن ٹرو پرامس III کے تحت جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) نے ان حملوں کے جواب میں تل ابیب، حیفا اور دیگر مقامات پر واقع کئی اسٹریٹیجک اور حساس فوجی و انٹیلیجنس مراکز کو نشانہ بنایا۔
بدھ کے روز اپنے ویڈیو پیغام میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا تھا کہ ایرانی قوم کسی بھی مسلط شدہ جنگ کا "ڈٹ کر مقابلہ کرے گی” اور "کسی بھی قسم کی مسلط کردہ شرط” کو قبول نہیں کرے گی۔
انہوں نے امریکہ کو بھی خبردار کیا کہ وہ صہیونی حکومت کی حمایت میں براہ راست مداخلت سے باز رہے۔

