اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تازہ جنگی دھمکیوں کے تناظر میں خلیج فارس کے ہمسایہ عرب ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف امریکی جارحیت کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
عرب میڈیا کے بعض ذرائع کے مطابق، ایران نے یہ پیغام قطر کے ذریعے تمام خلیجی ممالک تک پہنچایا ہے، جس میں واضح طور پر متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر ان ممالک کی سرزمین سے ایران پر امریکی حملہ کیا گیا تو وہ خود بھی جائز ہدف بن سکتے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ حالیہ دنوں میں ایران کے جوہری پروگرام کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے اسے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوششوں کا الزام دے کر شدید جنگی بیانیہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
اگرچہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی درخواست پر ایران کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی کا عندیہ دیا ہے، لیکن امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان کے کئی مشیروں نے اس قسم کی فوجی مہم جوئی کی سخت مخالفت کی ہے۔
ایران اس سے پہلے بھی امریکہ کو متنبہ کر چکا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ میں براہ راست مداخلت سے باز رہے۔
بدھ کی دوپہر جاری کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں، رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا کہ ایرانی قوم مسلط کی گئی کسی بھی جنگ کا "ڈٹ کر مقابلہ کرے گی”۔
انہوں نے ٹرمپ کے تازہ جنگی بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ:
"جو لوگ دانش و فہم رکھتے ہیں، اور جو ایران، اس کے عوام اور اس کی طویل تاریخ کو واقعی سمجھتے ہیں، وہ کبھی بھی اس قوم سے زبانِ دھمکی میں بات نہیں کرتے۔ ایران جھکنے والا ملک نہیں۔”
انہوں نے مزید کہا:
"امریکہ کو سمجھنا چاہیے کہ اگر اس نے کوئی فوجی جارحیت کی، تو اس کے ناقابلِ واپسی نتائج ہوں گے۔”
قابلِ ذکر ہے کہ امریکہ کے خلیج فارس کے مختلف ممالک میں متعدد فوجی اڈے موجود ہیں، جن میں بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، اور سعودی عرب شامل ہیں۔
ایران اس سے قبل بھی اپنی فوجی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے، جب جنوری 2020 میں جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے چند دن بعد ایران نے عین الاسد کے امریکی فوجی اڈے کو سخت ترین نشانے پر لیا تھا۔

