کریملن کا سخت انتباہ: ایران میں حکومت کی تبدیلی یا خامنہای کے قتل کی کسی بھی کوشش پر روس کا منفی ردعمل ہوگا
کریملن نے ایران میں حکومت کی تبدیلی یا اس کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہای کے قتل کی کسی بھی کوشش کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات عالمی عدم استحکام کو جنم دے سکتے ہیں۔
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز کو دیے گئے ایک نایاب انٹرویو میں کہا کہ اگر ایرانی سپریم لیڈر کو قتل کیا گیا تو روس انتہائی منفی ردعمل دے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ عمل پینڈورا باکس کھولنے کے مترادف ہوگا۔
پیسکوف کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے دو ہفتوں میں یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا امریکہ ایران کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائی میں شامل ہوگا یا نہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سوشل میڈیا پر آیت اللہ خامنہای کے قتل کے امکانات پر قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
پیسکوف نے سینٹ پیٹرزبرگ کے کونسٹنٹائن پیلس میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا:صورتحال پہلے ہی انتہائی کشیدہ ہے اور یہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرناک ہے۔ ,اگر اس تنازع میں مزید ممالک شامل ہوتے ہیں تو یہ اور بھی زیادہ خطرناک ہوگا، جو کہ خطے میں مزید تصادم اور کشیدگی کو جنم دے گا۔

