کریملن: ایران میں حکومت کی تبدیلی پر بات بھی ناقابلِ قبول ہے، روس
ماسکو، 20 جون (شِنہوا):
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس ایران میں حکومت کی تبدیلی (Regime Change) سے متعلق کسی بھی بات کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول سمجھتا ہے۔
انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے کو کہا:یہ ناقابلِ تصور ہے۔ ایسی کسی بات کا کھلے عام کیا جانا بھی ناقابلِ قبول ہونا چاہیے۔
یہ بیان مغربی ممالک کی جانب سے تہران میں ممکنہ قیادت کی تبدیلی کے اشاروں کے ردعمل میں سامنے آیا ہے۔
پیسکوف نے متنبہ کیا کہ اگر امریکہ براہِ راست ایران-اسرائیل تنازع میں شامل ہوا، تو اس سے صورتحال شدید بگڑ جائے گی اور پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا:صورتحال پہلے ہی انتہائی کشیدہ ہے اور یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی خطرہ ہے۔ تنازع کا دائرہ وسیع کرنا اور مزید فریقین کو شامل کرنا اور بھی زیادہ خطرناک ہوگا۔
پیسکوف نے خبردار کیا کہ امریکی مداخلت پینڈورا باکس کھولنے کے مترادف ہوگی۔
ان کے یہ ریمارکس اُس وقت سامنے آئے جب اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن کو ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہای کی موجودگی کا علم ہے، لیکن فی الحال انہیں "ختم کرنے” کا کوئی ارادہ نہیں۔
ٹرمپ نے ایران سے بلا شرط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ بھی کیا ہے، اگرچہ ان کا کہنا ہے کہ وہ فوجی طاقت کے استعمال سے گریز کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد امریکی صبر ختم ہوتا جا رہا ہے۔
پیسکوف نے مزید کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر پر کسی بھی ممکنہ حملے پر روس کا ردعمل انتہائی منفی ہوگا۔
ہم ایسی کسی کارروائی کی سخت مذمت کریں گے، انہوں نے کہا۔

