بدھ, فروری 18, 2026
ہومپاکستانہارون اختر نے پاکستان کی نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی 2025–30 کا آغاز...

ہارون اختر نے پاکستان کی نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی 2025–30 کا آغاز کر دیا
ہ

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان نے پاکستان کی قومی الیکٹرک وہیکل (NEV) پالیسی 2025–30 کا باقاعدہ آغاز کر دیا، جو صاف، سستی اور مقامی سطح پر تیار کردہ الیکٹرک ٹرانسپورٹ کی طرف منتقلی کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی فراہم کرتی ہے۔ سیکریٹری صنعت سیف انجم اور انجینیئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے سی ای او انجینئر خدا بخش کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر نے کہا کہ یہ نئی پالیسی وزیراعظم کے پائیدار ترقی کے وژن کے عین مطابق ہے، جس کا مقصد کاربن اخراج میں نمایاں کمی، فضائی معیار کی بہتری، اور مقامی صنعت کی حمایت کرنا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے ٹرانسپورٹ شعبے میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ کاربن اخراج کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ انہوں نے پالیسی کو پاکستان کی بین الاقوامی ماحولیاتی ذمہ داریوں، بشمول پیرس معاہدہ، کے مطابق قرار دیا۔ پالیسی کا اہم ہدف یہ ہے کہ 2030 تک ملک میں فروخت ہونے والی نئی گاڑیوں میں سے 30 فیصد الیکٹرک ہوں۔ اس تبدیلی سے سالانہ تقریباً 2.07 ارب لیٹر ایندھن کی بچت ہوگی، جو کہ تقریباً ایک ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے برابر ہے، اور کاربن اخراج میں 45 لاکھ ٹن کمی آئے گی۔ فضائی معیار کی بہتری کے نتیجے میں صحت کی سہولیات پر خرچ میں سالانہ 405 ملین ڈالر کی بچت متوقع ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینے کے لیے 2025–26 کے مالی سال میں ابتدائی طور پر 9 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی گئی ہے، جس کے تحت 1,16,053 الیکٹرک بائیکس اور 3,171 الیکٹرک رکشے فراہم کیے جائیں گے۔ اس سبسڈی کا 25 فیصد خواتین کے لیے مختص ہوگا تاکہ محفوظ اور ماحول دوست سفری سہولیات میں ان کی شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

پانچ سالہ پالیسی کے دوران مجموعی سبسڈی 100 ارب روپے سے تجاوز کرے گی اور خواتین کی شمولیت پر مسلسل زور دیا جائے گا۔

شفافیت اور مؤثر نظام کے لیے درخواست، تصدیق اور سبسڈی کی فراہمی کے لیے مکمل طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف کرایا گیا ہے۔

پالیسی میں قومی موٹرویز پر اوسطاً 105 کلومیٹر کے فاصلے پر 40 چارجنگ اسٹیشنز سمیت مضبوط انفراسٹرکچر کی تعمیر شامل ہے۔ دیگر خصوصیات میں بیٹری سویپنگ سسٹمز، وہیکل ٹو گرڈ (V2G) انضمام، اور نئی عمارتوں کے کوڈز میں الیکٹرک چارجنگ کی لازمی شمولیت شامل ہے۔

ہارون اختر نے مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی کی اہمیت پر زور دیا، اور بتایا کہ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے 90 فیصد سے زائد پرزے پاکستان میں تیار کیے جا رہے ہیں۔ مقامی مینوفیکچررز اور چھوٹے کاروباروں کے لیے مراعات اور سپورٹ پیکیج بھی دیے جائیں گے۔

موجودہ AIDEP ٹیرف سہولت 2026 تک برقرار رہے گی اور 2030 تک بتدریج ختم کر دی جائے گی۔

یہ پالیسی ستمبر 2024 سے 60 سے زائد ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہے، جس کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کی گئی ہے جو باقاعدہ جائزہ اجلاس منعقد کرے گی۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان ہر چھ ماہ بعد اس کی کارکردگی کا آڈٹ کرے گا۔

ہارون اختر نے NEV پالیسی کو “صنعتی ترقی، توانائی کی بچت اور ٹیکنالوجی میں خود کفالت کی بنیاد” قرار دیتے ہوئے حکومت، نجی شعبے اور عوام سے اپیل کی کہ وہ پاکستان میں ایک جدید اور پائیدار ٹرانسپورٹ نظام کے قیام کے لیے مل کر کام کریں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین