استنبول: ترک صدر رجب طیب اردوان نے بدھ کے روز کہا کہ اسرائیل کی چھ روز سے جاری بمباری کے جواب میں ایران کو اپنے دفاع کا بالکل جائز اور قانونی حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا:ایران کے لیے یہ ایک بہت ہی فطری، جائز اور قانونی حق ہے کہ وہ اسرائیل کی غنڈہ گردی اور ریاستی دہشتگردی کے خلاف اپنا دفاع کرے۔ اردوان نے ایک روز قبل اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کو خطے کی سیکیورٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔
اردوان کے مطابق اسرائیلی حملے اس وقت کیے گئے جب ایرانی جوہری مذاکرات جاری تھے۔ انہوں نے کہا:ایسا اسرائیل، جو ایٹمی ہتھیار رکھتا ہے اور کسی بین الاقوامی قانون کو تسلیم نہیں کرتا، اُس نے مذاکرات کے نتائج کا انتظار کیے بغیر دہشتگردی کی کارروائی کی۔
ایرانی حکام کے مطابق اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 224 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں جوہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ایران کی جوابی کارروائی میں 24 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔
اردوان نے کہا:ہم اسرائیل کے دہشتگرد حملوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، اور ہمارے تمام ادارے ممکنہ اثرات کے حوالے سے ہائی الرٹ پر ہیں۔ ہم ہر قسم کے منظرنامے کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں۔ کسی کو ہمیں آزمانے کی جرأت نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ انہوں نے دفاعی صنعت کو درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری بڑھانے کا حکم دیا ہے تاکہ خطے میں جاری فضائی جنگ کے تناظر میں "ملکی دفاعی صلاحیت میں اضافہ” کیا جا سکے۔

