دانشگاه (نیوز ڈیسک) فاکس نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے اسرائیل کی ایران کے خلاف غیرقانونی اور بلا اشتعال جارحیت میں اضافے کے پس منظر میں مشرقِ وسطیٰ میں مزید جنگی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ میں ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا کہ واشنگٹن خطے میں اپنی فضائی موجودگی کو وسعت دے رہا ہے۔
امریکی اقدام میں F-16، F-22 اور F-35 جیسے جدید جنگی طیارے شامل ہیں۔ اگرچہ امریکی حکام اِنہیں دفاعی اثاثے قرار دے رہے ہیں، مگر ان کی لڑائی کے فعال علاقوں کے قریب تعیناتی نے کئی سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔
اس کے برعکس، منگل کے روز اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے اعلان کیا کہ اُس کے مربوط فضائی دفاعی نظام نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دشمن کے 28 مختلف اقسام کے فضائی آلات کا کامیابی سے سراغ لگایا، انہیں روکا اور مار گرایا۔
ایرانی مسلح افواج کے بیان کے مطابق مار گرائے گئے ڈرونز میں "ہرمیس 900” بھی شامل ہے، جو ایک جدید جاسوس طیارہ ہے۔
اس کے علاوہ اطلاعات ہیں کہ ایران کے فضائی دفاعی نظام نے اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے اب تک امریکہ کے چار F-35 لڑاکا طیارے بھی تباہ کر دیے ہیں۔
ٹرمپ کی ایران کو دھمکیاں
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو براہِ راست دھمکیاں دیتے ہوئے واضح طور پر رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو قتل کرنے کی اسرائیلی-امریکی نیت کا اظہار کیا ہے۔
منگل کو ایک تند و تیز بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ "میرا صبر ایران کے ساتھ ختم ہو رہا ہے”، اور دعویٰ کیا کہ امریکہ "باآسانی” آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کر سکتا ہے، لیکن "فی الحال” ایسا کرنے سے باز رہ رہا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران کے ساتھ محض جنگ بندی نہیں بلکہ ایک "حقیقی معاہدہ” چاہتے ہیں تاکہ جوہری بحران کا دیرپا حل نکالا جا سکے، اور یہ بھی عندیہ دیا کہ وہ اپنے اعلیٰ حکام کو ایران بھیج سکتے ہیں، چاہے اسرائیلی قبضے کی جانب سے ایرانی علاقوں پر فضائی بمباری بدستور جاری ہے۔
کینیڈا میں G7 اجلاس کے اختتام پر ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ امریکہ کے نمائندہ خصوصی "اسٹیو وٹکوف” یا نائب صدر "جے ڈی وینس” ایران سے بات چیت کے لیے بھیجے جا سکتے ہیں۔ یہ بات CBS نیوز کے ایک صحافی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ X پر شیئر کی۔
ٹرمپ نے یہ بھی پیش گوئی کی کہ "اسرائیل” ایران پر اپنے حملوں کی شدت میں کوئی کمی نہیں لائے گا۔ انہوں نے کہا: "آپ اگلے دو دنوں میں دیکھ لیں گے، سب کچھ سامنے آ جائے گا۔ ابھی تک کسی نے پیچھے قدم نہیں کھینچا۔”

