بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیایران پر امریکی حملے کی دھمکی، حماس کا سخت ردعمل

ایران پر امریکی حملے کی دھمکی، حماس کا سخت ردعمل
ا

دانشگاه (نیوز ڈیسک) اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے ایران کے خلاف امریکی فوجی مداخلت کی دھمکیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسی کسی بھی کارروائی کے پورے مشرق وسطیٰ پر خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔ تحریک نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے لیے امریکہ اور اسرائیل کو مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

منگل کی شام جاری ہونے والے بیان میں حماس نے امریکی اور صہیونی قیادت کے طرز عمل کو "لاپرواہی” اور "جارحانہ” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر امریکہ براہ راست ایران کے خلاف کسی فوجی مہم میں شریک ہوا تو اس کے نتائج نہایت سنگین ہوں گے۔

علاقائی عدم استحکام کا انتباہ

بیان میں کہا گیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کو مسلسل نشانہ بنانا خطے کو دھماکہ خیز صورتحال کی طرف دھکیل رہا ہے۔ تحریک نے اسرائیلی قیادت کی اس بیان بازی کی بھی مذمت کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ "مشرق وسطیٰ میں کوئی بھی شہر اسرائیلی حملوں سے محفوظ نہیں”۔ حماس نے ایسے بیانات کو "نوآبادیاتی ذہنیت” اور "غرور و تکبر” کی عکاسی قرار دیا۔

ایران کے دفاع کے حق کی حمایت

حماس نے اسرائیلی جارحیت کے تسلسل کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ایران اور اس کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ تحریک نے زور دے کر کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے اور وہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اصولوں کے تحت اپنے دفاعی اقدامات کر رہا ہے۔

عرب و اسلامی اتحاد کی اپیل

بیان میں عرب اور اسلامی ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے امتِ مسلمہ کے خلاف جاری جارحیت کے سامنے ایک متحد اور ذمہ دارانہ موقف اختیار کریں۔ تحریک نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں خاموشی یا تماشائی بنے رہنا امت کے مستقبل کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

امریکی مداخلت کی خبریں

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میڈیا میں اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد ایران کے خلاف جنگ میں براہ راست شرکت کا اعلان کر سکتے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی صورتحال روم میں قومی سلامتی کونسل کے ساتھ ایک گھنٹے طویل ملاقات کی ہے، جس کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ اسرائیلی جنگی مہم میں براہ راست شریک ہو سکتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین