بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیاسرائیلی میزائل دفاعی نظام چند دنوں میں ناکام ہونے کا خدشہ :...

اسرائیلی میزائل دفاعی نظام چند دنوں میں ناکام ہونے کا خدشہ : واشنگٹن پوسٹ
ا

دانشگاه (نیوز ڈیسک) واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگر ایرانی حملے اسی شدت سے جاری رہے تو اسرائیل کا میزائل دفاعی نظام آئندہ چند دنوں میں ناکام ہو سکتا ہے، کیونکہ اس نظام کے اخراجات حد سے بڑھ چکے ہیں اور روکنے والے میزائلوں کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تھکن پر مبنی طویل جنگ تل ابیب کے لیے ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہے۔ امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر فوری طور پر اسلحے کی نئی فراہمی یا براہِ راست امریکی فوجی مداخلت نہ ہوئی تو اسرائیل اپنے موجودہ دفاعی نظام کو زیادہ سے زیادہ 10 سے 12 دن تک ہی برقرار رکھ سکے گا۔

ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ "انہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کن اہداف کو روکنا چاہتے ہیں، نظام پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔”

یہ تجزیہ فوجی معاملات پر نظر رکھنے والے اوپن سورس انٹیلیجنس اکاؤنٹ @METT_Project کی وارننگ سے مطابقت رکھتا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر ایران کی بیلسٹک میزائلوں کی مسلسل بارش جاری رہی تو جنگ کے اٹھارویں دن کے بعد اسرائیلی دفاعی نظام کی کئی تہیں ٹوٹنا شروع ہو جائیں گی۔ اس تخمینے میں دفاعی میزائلوں کے استعمال کی شرح اور موجود ذخائر کو مدِنظر رکھا گیا، اور پیش گوئی کی گئی کہ جیسے جیسے اسرائیل کو اپنے میزائل بچانے پڑیں گے، روزانہ کی بنیاد پر ایرانی میزائلوں کے کامیاب حملے بڑھتے جائیں گے۔

دفاعی اخراجات میں ہوشربا اضافہ، جنگ جلد ختم کرنے کی ضرورت

ایرانی میزائل حملوں کے خلاف دفاعی اقدامات کی مالی لاگت بھی اسرائیل کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہے۔ اسرائیلی اقتصادی جریدے دی مارکر کے مطابق میزائل دفاعی نظام کو فعال رکھنے کی قیمت تقریباً ایک ارب شیکل یعنی 285 ملین ڈالر فی رات تک پہنچ چکی ہے۔

اسرائیل کا انحصار Arrow-2 اور Arrow-3 جیسے مہنگے میزائلوں پر ہے، جن کی فی میزائل لاگت تقریباً 30 لاکھ ڈالر ہے، جس نے ماہرین میں اس جنگی مرحلے کی مالی پائیداری کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

آئرن ڈوم ایران کے میزائل کیوں نہیں روک سکتا؟

اسرائیل کے کثیرسطحی میزائل دفاعی نظام میں Arrow میزائل، David’s Sling، اور آئرن ڈوم/تمیر جیسے مختلف درجوں کے میزائل شامل ہیں۔ آئرن ڈوم سستے اور مختصر فاصلے کے راکٹ حملوں، جیسے کہ غزہ سے کیے جانے والے راکٹوں، کے لیے موزوں ہے۔

مگر منگل کی صبح اس نظام کی کمزوری اُس وقت نمایاں ہوئی جب ایرانی میزائل حملے میں اسرائیلی فوجی انٹیلیجنس ڈائریکٹوریٹ (آمان) کے ایک حساس مقام کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی افواج نے آخری کوشش کے طور پر تمیر میزائلوں سے حملہ روکنے کی کوشش کی، مگر وہ ناکام رہے اور نشانہ کامیاب رہا۔

اسرائیلی دفاعی تجزیہ کار ایفرائیم انبار نے صورتحال کی سنگینی کی وضاحت یوں کی: "یہ ایسے ہے جیسے نو ملی میٹر پستول سے مال بردار ریل گاڑی پر فائر کیا جائے۔” اُن کا کہنا تھا کہ آئرن ڈوم جیسے سستے اور قریبی فاصلہ روکنے والے نظام ایران کے ایسے میزائلوں کے خلاف غیر مؤثر ہیں جو بالائی فضا میں سفر کرتے ہوئے ہدف کو نشانہ بناتے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ نے مزید لکھا کہ امریکی حکام ایران کے حملوں کی رفتار اور اسرائیلی دفاعی نظام پر پڑنے والے دباؤ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جیسے جیسے ایرانی میزائل حملے جاری ہیں، اسرائیلی کمانڈرز کو یہ طے کرنا پڑ رہا ہے کہ کس ہدف کو بچایا جائے اور کس کو چھوڑ دیا جائے—یہ صورتِ حال جلد ہی اسرائیل کے اسٹریٹجک انفراسٹرکچر اور شہری علاقوں کو شدید خطرے سے دوچار کر سکتی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین