دانشگاه (نیوز ڈیسک) امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران "جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے بہت قریب” تھا، اور اس حوالے سے امریکی انٹیلیجنس کمیونٹی اور ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس ٹلسی گببرڈ کی رپورٹس کو یکسر مسترد کر دیا ہے، جن کے مطابق تہران نے 2003 میں اپنا جوہری پروگرام معطل کر دیا تھا۔
سی این این کے ایک رپورٹر کے سوال پر کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے کس قدر قریب سمجھتے ہیں، ٹرمپ نے گببرڈ کے حالیہ بیان کے برعکس مؤقف اختیار کیا۔ گببرڈ نے رواں برس مارچ میں امریکی انٹیلیجنس کمیونٹی کی گواہی دیتے ہوئے کہا تھا کہ "ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا۔ سپریم لیڈر خامنہ ای نے 2003 میں جوہری ہتھیاروں کا پروگرام معطل کیا تھا، اور اب تک اسے دوبارہ شروع کرنے کی اجازت نہیں دی۔”
اس پر ٹرمپ کا ردعمل تھا: "مجھے پروا نہیں وہ کیا کہتی ہیں۔ میرا خیال ہے وہ (ایرانی) اس کے بہت قریب تھے۔”
ایران نئے معاہدے کے لیے رعایت دینے پر آمادہ نہیں
وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق، عرب ثالثوں نے بتایا ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع بھی ہوں، تو ایران کی جانب سے کسی نئی رعایت کی امید نظر نہیں آتی۔
رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے والے علاقائی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران اس وقت سفارتی جمود کے پیش نظر نہ صرف جوہری سرگرمیوں میں تیزی لانے بلکہ علاقائی محاذ آرائی میں بھی توسیع کا اشارہ دے رہا ہے۔
عرب حکام نے WSJ کو آگاہ کیا کہ ایران نے متنبہ کیا ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ سفارتی امکانات معدوم ہوئے تو وہ جوہری پروگرام کی رفتار تیز کر دے گا اور اسرائیلی قبضے کے خلاف اپنے اقدامات کو وسعت دے گا۔
یورپی تین ممالک کا دوہرا معیار
جرمنی، فرانس اور برطانیہ پر مشتمل یورپی تین رکنی گروپ (E3) نے ایران کے خلاف بیانات جاری کیے، مگر اسرائیل کی جارحیت پر خاموشی اختیار کی۔ اگرچہ حملوں کا آغاز "اسرائیل” کی جانب سے ہوا، E3 نے اس اقدام کی مذمت نہیں کی بلکہ محض کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کی بحالی پر زور دیا، ساتھ ہی "اسرائیل” کے دفاع کے حق کو برقرار رکھنے کا بیان بھی دہرایا۔
ایران کا پرامن جوہری مقاصد پر اصرار
ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم (AEOI) نے اتوار کے روز اپنے سرکاری ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ سے پیغام جاری کرتے ہوئے پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس پیغام میں کہا گیا: "ایران مضبوطی سے قائم ہے۔ دشمنوں کے حالیہ حملے ہماری سائنسی پیش رفت کو روک نہیں سکتے۔”
تنظیم نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن ترقی کے اصولوں پر مبنی ہے اور اس کا مقصد صرف شہری فوائد حاصل کرنا ہے۔ پیغام میں مزید کہا گیا:
"ہم اپنے جوہری سائنسدانوں کی کوششوں پر انحصار کرتے ہوئے ایرانی قوم کے لیے پرامن جوہری ٹیکنالوجی کی ترقی کا راستہ مضبوطی سے جاری رکھیں گے۔”
تنظیم نے دشمنوں کے اقدامات کو "مایوس کن حملے” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایرانی قوم کے ارادے کو شکست نہیں دے سکتے۔ ایران نے زور دیا کہ اس کا جوہری پروگرام جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے تحت ہے اور اس کے تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں ہیں۔

