دانشگاه (نیوز ڈیسک) نجف الاشرف:
نجف کے دینی مدارس کے طلبہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر سید علی خامنہ ای کے خلاف امریکہ اور "اسرائیل” کی جانب سے بڑھتی ہوئی دھمکیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ مرجعیت کو نشانہ بنانا سرخ لکیر ہے جسے عبور کرنے کے نتائج سنگین ہوں گے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر ایک متنازع پوسٹ میں رہبرِ ایران کو قتل کے ممکنہ ہدف کے طور پر پیش کیا۔
ٹرمپ نے لکھا:
"ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ نام نہاد ‘سپریم لیڈر’ کہاں چھپے ہوئے ہیں۔ وہ ایک آسان ہدف ہیں، لیکن فی الحال وہ محفوظ ہیں – ہم انہیں ابھی نشانہ نہیں بنائیں گے (قتل نہیں کریں گے!)، کم از کم ابھی نہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ لیکن ہم نہیں چاہتے کہ میزائل شہریوں یا امریکی فوجیوں پر برسیں۔ ہمارا صبر لبریز ہو چکا ہے۔
نجف، قم اور دیگر عالمی دینی مراکز سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے ٹرمپ کے ان بیانات کو "سیاسی بے حیائی اور گستاخی” قرار دیا اور کہا کہ سید علی خامنہ ای صرف ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ اعلیٰ دینی اتھارٹی اور لاکھوں مسلمانوں کے لیے وحدت کی علامت ہیں۔
طلبہ کے اعلامیے میں کہا گیا کہ
دینی مرجعیت کے تقدس پر کوئی آنچ آئی تو وہ ہمارے لیے سرخ لکیر ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کو ہمارا پیغام یہ ہے کہ مرجعیت کا منصب مقدس ہے، اور جو ہاتھ اس کی طرف بڑھے گا، وہ ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ مرجعیت، شیعہ اسلام میں اعلیٰ ترین دینی اتھارٹی کو کہا جاتا ہے، جو مجتہدینِ اعلیٰ (مراجع تقلید) پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ شخصیات لاکھوں مسلمانوں کی روحانی و قانونی رہنمائی کرتی ہیں اور شرعی فتوے صادر کرتی ہیں۔
بیان میں اسلامی ممالک، دینی اداروں اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی گئی کہ وہ ان "بزدلانہ دھمکیوں” کی فوری اور علانیہ مذمت کریں، کیونکہ یہ عالم اسلام کی سب سے بلند مذہبی شخصیات میں سے ایک کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے۔

