دانشگاه (نیوز ڈیسک) مشرق وسطیٰ :
لبنانی سیاسی تجزیہ کار اور "شمس سینٹر برائے اعلیٰ اسٹریٹجک مطالعات” کے ڈائریکٹر محمد شمس نے تصدیق کی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران موجودہ معرکے پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور ایک یقینی فتح کی جانب گامزن ہے۔
انہوں نے بدھ کی صبح المسیرہ ٹی وی کو خصوصی بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایران ایک وسیع سطح کی طاقت فرسا جنگ میں مصروف ہے، جس کا ہدف صیہونی دشمن کے انٹرسیپٹر میزائلز کو نشانہ بنانا اور ان کے ذخائر کو تدریجی طور پر ختم کرنا ہے۔
محمد شمس نے واضح کیا کہ عسکری و تزویراتی زاویے سے، اور الٰہی وعدے اور عدل کے تناظر میں بھی، یہ جنگ اب تک ایران کے حق میں آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے یمنی مسلح افواج کے کردار کو سراہا، جنہوں نے اسلامی جمہوریہ کے ساتھ مل کر اس جنگ میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ جنگ کا آغاز "اسرائیل” نے کیا، لیکن اس کا اختتام ایران لکھے گا۔
لبنانی عسکری ماہر نے امریکہ کی پالیسی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جسے انہوں نے اسلامی جمہوریہ کو غلط راہوں پر الجھانے کی کوشش قرار دیا، حالانکہ اس کا اصل فائدہ صرف صیہونی دشمن کو پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی ایران پر جارحیت میں شمولیت سے خطے اور خلیج میں موجود اس کے تمام فوجی اڈے جائز اہداف بن چکے ہیں، جنہیں نہ صرف ایران بلکہ یمنی مسلح افواج بھی نشانہ بنا سکتی ہیں۔
محمد شمس نے مزید کہا کہ امریکہ اس وقت اندرونی خلفشار کا شکار ہے اور اسے ایران کے خلاف جنگ میں داخل ہونے پر اندرونی دباؤ کا سامنا ہے، کیونکہ ایسی جنگ امریکی مفادات کے خلاف ہے اور اس کے اڈوں کو سنگین خطرات لاحق ہوں گے۔ انہوں نے اس تناظر میں امیگریشن قوانین پر بڑھتے ہوئے عوامی احتجاج اور سول بدامنی کی مثال دی۔
انہوں نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر جنگ مسلط کرنے سے قبل "ہزار بار سوچنا چاہیے”، کیونکہ یہ فیصلہ صرف "مجرم ٹرمپ” کا نہیں ہو سکتا بلکہ کانگریس اور سینیٹ کے پاس ہے جو دراصل امریکی خارجہ پالیسی کے معمار ہیں۔
محمد شمس نے زور دے کر کہا کہ
اگر امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ کیا، تو یہ تیسری عالمی جنگ کو جنم دے سکتا ہے اور امریکہ کو شکست سے دوچار کر سکتا ہے۔ ایک خودساختہ عالمی پولیس مین کے طور پر اگر امریکہ یہ کردار کھو بیٹھا، تو یہ اس کی عالمی حیثیت کا زوال ہو گا۔ اسی لیے واشنگٹن کو اس جنگ میں داخل ہونے سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صیہونی ریاست اس بات میں دلچسپی رکھتی ہے کہ پورے خطے اور دنیا میں ہمہ گیر جنگ چھڑ جائے۔
آخر میں لبنانی تجزیہ کار نے کہا کہ امریکہ مزاحمتی قوتوں کے حملوں کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا، اور بحیرۂ احمر اس کا زندہ ثبوت ہے — جہاں یمنی مسلح افواج کے حملوں کے بعد واشنگٹن کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکہ اب تک خطے میں عوام کی مرضی، ایمان اور مزاحمتی عزم کے مقابلے میں ایک بھی جنگ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
ان کے بقول:
"انصاراللہ نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکی تکبر اور بالادستی کا دور ختم ہونے کو ہے۔”

