اسلام آباد:
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے منگل کے روز متفقہ طور پر سولر پینلز کی درآمد پر مجوزہ 18 فیصد سیلز ٹیکس کو مسترد کر دیا، جبکہ حکومت نے ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس بڑھانے کے ایک اور متنازعہ اقدام کو بھی واپس لینے کا اعلان کیا، یوں دونوں ماحولیاتی طور پر نقصان دہ تجاویز کو ختم کر دیا گیا۔
ہائبرڈ گاڑیوں اور سولر پینلز پر ٹیکس واپس لینے کا فیصلہ
اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ پر غور کے دوران مجوزہ 18 فیصد سیلز ٹیکس کو مسترد کر دیا ہے جو درآمدی سولر پینلز اور ان کے پرزہ جات پر عائد کیا جانا تھا۔ اس ٹیکس سے حکومت کو 20 ارب روپے آمدن کی توقع تھی، تاہم چونکہ یہ اقدام آئی ایم ایف کی کوئی شرط نہیں تھا، اس لیے اسے ختم کرنے سے آئی ایم ایف پروگرام متاثر نہیں ہوگا۔
ایف بی آر کے چیئرمین رشید لنگریال نے مؤقف اپنایا کہ ٹیکس کے ذریعے مقامی سولر پینل سازوں کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے، لیکن انہوں نے اس سے متعلق مارکیٹ شیئر کے کوئی اعداد و شمار فراہم نہیں کیے۔ کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر نے واضح کیا کہ اگر حکومت کمیٹی کی سفارش کو نہ مانے تو قومی اسمبلی اس فیصلے کو ویٹو کر سکتی ہے۔ انہوں نے مقامی صنعت کی حوصلہ افزائی کے لیے متبادل طریقے اپنانے کی تجویز دی۔
اس کے ساتھ ہی حکومت نے 1800cc تک کی ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 12.5 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی مجوزہ تجویز بھی واپس لے لی، جس سے ممکنہ طور پر 7 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہونا تھا۔ تاہم ایف بی آر نے 850cc تک کی گاڑیوں پر جی ایس ٹی بڑھانے کے فیصلے پر قائم رہنے کا اعلان کیا، جس پر ارکان اسمبلی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے چھوٹی گاڑیاں مہنگی ہو جائیں گی، یہاں تک کہ بعض صورتوں میں یہ قیمت میں بڑی ایس یو ویز سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔
کمیٹی میں ڈیجیٹل پریزنس پروسیڈز ایکٹ 2025 پر بھی بحث ہوئی، جس کے تحت نیٹ فلکس اور ایمیزون جیسے غیر ملکی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو پاکستان میں ادائیگیوں پر 5 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔ ایف بی آر کے مطابق اس اقدام سے سالانہ 15 ارب روپے ریونیو حاصل ہو سکتا ہے، لیکن ارکان کا کہنا تھا کہ اس بل کو بجٹ کا حصہ بنانے کے بجائے علیحدہ طور پر پارلیمنٹ میں پیش کیا جانا چاہیے۔
کمیٹی میں سگریٹ اسمگلنگ روکنے کے لیے ایف بی آر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خصوصی اختیارات دینے پر بھی بحث ہوئی، جہاں ارکان نے ممکنہ غلط استعمال اور ہراسانی کے خدشات پر تشویش کا اظہار کیا۔

