بدھ, فروری 18, 2026
ہومپاکستانجی ایس ٹی میں اضافہ: گاڑیوں کی فروخت متاثر ہونے کا خدشہ

جی ایس ٹی میں اضافہ: گاڑیوں کی فروخت متاثر ہونے کا خدشہ
ج

اسلام آباد:
پاک سوزوکی موٹر کمپنی نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) میں مجوزہ اضافہ گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں کمی کا سبب بن سکتا ہے، جس سے گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں (OEMs) اور پرزہ جات فراہم کرنے والے وینڈرز دونوں کو منفی اثرات کا سامنا ہوگا۔ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر ہیروشی کاوامورا نے کہا کہ 18 فیصد جی ایس ٹی نہ صرف آٹو انڈسٹری بلکہ اس سے منسلک روزگار کے مواقع کو بھی متاثر کرے گا، جب کہ 12 فیصد جی ایس ٹی کی سطح پر معیشت کی ترقی قابلِ عمل ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت حارث اختر خان سے ملاقات میں کہا کہ اگر 12.5 فیصد جی ایس ٹی برقرار رہے تو اس شعبے میں روزگار کے مواقع مزید بڑھ سکتے ہیں، جو اس وقت تقریباً 25 لاکھ افراد کو براہِ راست اور بالواسطہ روزگار فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے چھوٹی گاڑیوں (850cc سے کم انجن کی گنجائش) پر ٹیکس 12.5 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قیمتیں بڑھیں گی، لوگوں کی قوتِ خرید متاثر ہوگی اور مارکیٹ میں طلب میں کمی آئے گی، جو صنعت کی ترقی کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ اس پر معاونِ خصوصی نے وزیراعظم شہباز شریف کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آٹو انڈسٹری کی حمایت جاری رکھے گی اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صنعت سے مسلسل رابطے میں رہے گی۔ اس کے علاوہ حارث اختر نے ماسٹر چنگان موٹرز کے سی ای او دانیال ملک سے بھی ملاقات کی، جس میں نیو انرجی وہیکل (NEVs)، بالخصوص الیکٹرک گاڑیوں کی قومی ترجیح کے طور پر منتقلی پر بات چیت ہوئی۔ دانیال ملک نے پالیسی میں تسلسل اور انڈسٹری فرینڈلی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ایک مستحکم اور ترقی پذیر ماحول قائم رہے۔ معاونِ خصوصی نے اعلان کیا کہ جلد ہی ایک جامع الیکٹرک وہیکل پالیسی جاری کی جائے گی، جس میں انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری کے مراعات اور پالیسی سہولیات شامل ہوں گی تاکہ ماحول دوست اور طویل المدتی صنعتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
مقبول مضامین

مقبول مضامین