بدھ, فروری 18, 2026
ہومپاکستانبلوچستان کا 1028 ارب روپے کا بجٹ پیش – مالی سال 2025-26

بلوچستان کا 1028 ارب روپے کا بجٹ پیش – مالی سال 2025-26
ب

کوئٹہ:
بلوچستان حکومت نے منگل کے روز مالی سال 2025-26 کے لیے 1028 ارب روپے کا سرپلس، عوام دوست اور ریلیف پر مبنی بجٹ پیش کر دیا، جس میں 42 ارب روپے کا فاضل (سرپلس) دکھایا گیا ہے۔ صوبائی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ 642 ارب روپے غیرترقیاتی اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ 249.5 ارب روپے کو سالانہ ترقیاتی پروگرام (PSDP) کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 کے لیے کل تخمینی اخراجات 986 ارب روپے ہوں گے، اور موجودہ آپریٹنگ اخراجات کو 43 ارب سے کم کر کے 33 ارب روپے تک محدود کر دیا گیا ہے۔ شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ حکومت نے صوبائی آمدن بڑھانے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اگلے مالی سال کے لیے 226 ارب روپے محصولات (ریونیو) کا ہدف مقرر کیا ہے۔

بجٹ کا مجموعی حجم
بلوچستان حکومت نے مالی سال 2025-26 کے لیے 1028 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے، جو ایک سرپلس (فاضل) اور عوام دوست بجٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس میں 42 ارب روپے کا فاضل بجٹ دکھایا گیا ہے۔ بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 642 ارب روپے جبکہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 249.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ترقیاتی منصوبے
بجٹ میں 3633 جاری اسکیموں اور 2550 نئی اسکیموں کو شامل کیا گیا ہے۔ 8 بڑے شہروں میں سیف سٹی پراجیکٹ کے لیے 18 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ وفاقی تعاون سے چلنے والے منصوبوں کے لیے 66.5 ارب جبکہ غیر ملکی امدادی پروگراموں (FPA) کے لیے 38 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

اہم شعبہ جات کے فنڈز
کمیونیکیشن اور ورکس ڈپارٹمنٹ کو 55.19 ارب روپے دیے گئے ہیں، جو گزشتہ سال سے 19 فیصد زیادہ ہیں۔ آبپاشی کے منصوبوں کے لیے 42.78 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے 24.84 ارب جبکہ صحت کے شعبے میں 16.15 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ صحت میں اسپتالوں کی اپ گریڈیشن، جدید مشینری اور طبی عملے کی بھرتی شامل ہے۔

جدید ٹیکنالوجی اور بنیادی سہولیات
سائنس اور آئی ٹی کے لیے 12.66 ارب روپے رکھے گئے ہیں، تاکہ ڈیجیٹل بلوچستان وژن کے تحت ای-گورننس کو فروغ دیا جا سکے۔ صاف پانی، نکاسی آب اور ویسٹ مینجمنٹ کے لیے 17.16 ارب روپے، جبکہ بلدیاتی حکومت کے لیے 12.91 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

زراعت، توانائی اور دیگر شعبے
زراعت کے شعبے میں کسانوں کو سبسڈی، بیج، کھاد اور جدید آلات کی فراہمی کے لیے 10.17 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ توانائی کے قابلِ تجدید منصوبوں کے لیے 7.84 ارب، معدنیات کے شعبے کے لیے 567.6 ملین روپے، اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے 154 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

دیگر مالی اقدامات
سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے 4.5 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جو گزشتہ سال سے 6 ارب کم ہیں۔ مختلف محکموں کو 113 ارب روپے کی گرانٹس دی جائیں گی۔ 4188 افراد کو کنٹریکٹ اور 1958 افراد کو مستقل بنیاد پر ملازمتیں دی جائیں گی۔

تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کچھ حد تک کم کیا جا سکے۔

وزیر خزانہ کا بیان
صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ یہ بجٹ عوامی ضروریات، زمینی حقائق اور مالی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی گئی ہے، اور بجٹ میں شہری و دیہی علاقوں کی متوازن ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین