بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیپاسدارانِ انقلاب نے تل ابیب میں اسرائیلی انٹیلی جنس مرکز تباہ کیا

پاسدارانِ انقلاب نے تل ابیب میں اسرائیلی انٹیلی جنس مرکز تباہ کیا
پ

ایران کی جوابی کارروائی سچا وعدہ III کے تازہ مرحلے میں اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس یونٹ آمان کا لاجسٹک ہیڈکوارٹر مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ اسی آپریشن میں یونٹ 8200 سے منسلک ایک اور سہولت کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

منگل کے روز ایک بیان میں پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) نے تصدیق کی کہ اس نے تل ابیب کے قریب گلیلوت بیس پر اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس یونٹ 8200 کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

بیان کے مطابق:آج منگل، 17 جون کی صبح کے وقت، پاسدارانِ انقلاب کے ایرو اسپیس ڈیویژن نے، انتہائی جدید دفاعی نظاموں کی موجودگی کے باوجود، صیہونی حکومت کے فوجی انٹیلی جنس مرکز ‘آمان’ اور دہشتگرد کارروائیوں کے منصوبہ ساز مرکز (موساد) کو تل ابیب میں نشانہ بنایا، اور یہ مرکز اس وقت آگ کی لپیٹ میں ہے۔

منگل کے روز سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں گلیلوت میں موجود آمان لاجسٹک مرکز کو شعلوں میں لپٹا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ آمان کو اسرائیلی انٹیلی جنس کے قدیم ترین اداروں میں شمار کیا جاتا ہے، جو ناجائز صیہونی وجود کے قیام کے فوراً بعد قائم کیا گیا تھا۔ اس کا بنیادی کام اسرائیلی حکومت اور موساد کے لیے دنیا بھر، خصوصاً ایران میں دہشتگردی اور تخریبی کارروائیوں کے لیے انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنا ہے۔

آمان میں کئی جدید جاسوسی یونٹس شامل ہیں، جن میں یونٹ 8200 (سگنلز انٹیلی جنس)، یونٹ 504 (ہیومن انٹیلی جنس) اور یونٹ 9900 (جیو اسپیشل انٹیلی جنس) شامل ہیں۔

اگرچہ سچا وعدہ III آپریشن میں اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات کی تصاویر کے اجراء پر مکمل پابندی ہے، لیکن کئی ویڈیوز لیک ہو چکی ہیں جن میں آمان مرکز کو آگ میں جلتا ہوا دکھایا گیا ہے۔ یہ حملہ منگل کی صبح سچا وعدہ III آپریشن کے نویں مرحلے میں کیا گیا، جو جمعے کی رات اس وقت شروع ہوا جب اسرائیل نے ایران کے کئی اعلیٰ فوجی کمانڈرز، جوہری سائنسدانوں اور عام شہریوں، بشمول خواتین و بچوں کو شہید کیا۔ جمعے سے اب تک، اسرائیلی حکومت نے ایران پر مسلسل حملے کیے ہیں، جن کا ہدف زیادہ تر شہری مقامات رہے ہیں۔

پیر کے روز، اسرائیل نے تہران میں واقع اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ (IRIB) کے ہیڈ آفس پر براہِ راست نشریات کے دوران حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دو صحافی شہید ہو گئے۔

ایران نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی مسلسل جارحیت کی مذمت کرے اور اسے اس کے اقدامات کا جوابدہ بنائے۔ ایران نے کہا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن ذریعہ استعمال کرے گا۔

پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر کے سینئر مشیر، بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی نے پیر کے روز کہا کہ ایران کے نئے میزائل صرف اس کی فوجی صلاحیت کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔انہوں نے کہا:ہم اپنی جدید ٹیکنالوجی اس وقت استعمال کریں گے جب ہمیں ضرورت محسوس ہو گی۔ یہ کہنا کہ ہمارے میزائل ختم ہو رہے ہیں، ایک مضحکہ خیز دعویٰ ہے۔ ابھی ہم نے اپنا تزویراتی (اسٹریٹیجک) ہتھیار استعمال ہی نہیں کیا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین