دانشگاه (نیوز ڈیسک) جنوبی افریقہ نے ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون، ریاستی خودمختاری، اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔
پریٹوریا میں وزارتِ بین الاقوامی تعلقات و تعاون (Dirco) کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ جمعے کے روز اسرائیل کی جانب سے ایران کے اندر مختلف اہداف، جن میں عسکری تنصیبات، جوہری مراکز اور شہری انفراسٹرکچر شامل ہیں، پر حملے کیے گئے۔ بیان میں ان حملوں پر “گہری تشویش” ظاہر کی گئی ہے، بالخصوص ان کے نتیجے میں شہریوں اور فوجی اہلکاروں کی ہلاکتوں پر۔
وزارت کے ترجمان کرِسپن فیری کے حوالے سے کہا گیا کہ یہ حملے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی انسانی قانون میں درج خودمختاری، علاقائی سالمیت، اور شہریوں کے تحفظ جیسے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جوہری تنصیبات کے قریب حملوں سے جوہری تحفظ اور سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس پر جنوبی افریقہ کو خاص تشویش ہے۔ فیری نے اس حوالے سے IAEA جنرل کانفرنس کی قراردادوں GC(XXIX)/RES/444 اور GC(XXXIV)/RES/533 کا حوالہ دیا، جن میں پرامن جوہری تنصیبات پر مسلح حملوں کو اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
جنوبی افریقہ نے واضح کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت دفاعی کارروائی کے لیے کسی حملے کے فوری خطرے کے شواہد درکار ہوتے ہیں، جو موجودہ صورتِ حال میں نظر نہیں آتے۔
جنوبی افریقہ نے ایران کی حکومت اور تمام متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ جنوبی افریقہ تنازعات کے پرامن حل کے اپنے مؤقف پر قائم ہے، اور تمام فریقین سے زیادہ سے زیادہ ضبط و تحمل برتنے کی اپیل کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے سفارتی کوششوں میں فوری تیزی لانے پر زور دیا گیا ہے۔
فیری کے مطابق، جنوبی افریقہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری دوطرفہ بات چیت کی حمایت کرتا ہے، اور مشرقِ وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک علاقہ بنانے کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کرتا ہے۔
واضح رہے کہ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ کے اعلیٰ افسران سمیت کئی سینیئر کمانڈر مارے گئے، جب کہ تقریباً 100 اہداف، جن میں جوہری تنصیبات بھی شامل تھیں، کو نشانہ بنایا گیا۔

