بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیایران اسرائیل کشیدگی کے بیچ افغانستان کی محتاط سفارت کاری

ایران اسرائیل کشیدگی کے بیچ افغانستان کی محتاط سفارت کاری
ا

دانشگاه (نیوز ڈیسک) ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، افغانستان ایک متوازن اور حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ خود کو اس تنازع سے دور رکھ سکے۔

اسلامی امارت کی جانب سے محتاط پالیسی اپنائی جا رہی ہے، جس میں ایک طرف ایران کی حمایت کا عندیہ دیا گیا ہے اور دوسری جانب اس تنازع میں براہِ راست ملوث ہونے سے گریز کا مؤقف برقرار رکھا گیا ہے۔

افغانستان کی وزارتِ اقتصاد نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ تناؤ برقرار رہا تو علاقائی استحکام کو سنجیدہ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

وزارت کے تخنیکی امور کے نائب وزیر، عبد اللطیف نظری کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اسلامی امارت کی پالیسی خطے میں امن اور دیرپا استحکام کی حمایت پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق، امارت اس امر پر یقین رکھتی ہے کہ تمام ممالک کو اقوام متحدہ کے منشور کے تحت ایک دوسرے کی قومی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنا چاہیے۔

سیاسی امور کے ماہر، عبد الحق حمد کا کہنا تھا کہ اسلامی امارت کی جانب سے اسرائیل کے ایران پر حملے کی مذمت کی گئی ہے اور اسے ایران کا جائز دفاعی حق تسلیم کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ بطور ہمسایہ ملک، امارت اپنی استطاعت کے مطابق ایران کی معاونت کی کوشش کرے گی۔

ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع شدت اختیار کرتا ہے تو علاقائی پراکسی گروہوں کی سرگرمیاں بڑھ سکتی ہیں، جس سے یہ جنگ ہمسایہ ممالک بشمول افغانستان تک پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔

سیاسی تجزیہ کار ذکی محمدی کے مطابق، اگر جنگ کا تسلسل برقرار رہا تو خطے میں متعدد پراکسی گروہ ابھر سکتے ہیں جنہیں کھلی چھوٹ مل جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے گروہ متحرک ہوں گے اور مفرور افراد اس صورت حال سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جو نہ صرف افغانستان بلکہ ایران کے لیے بھی نقصان دہ ہو گا۔

ایک اور سیاسی ماہر، محمد ادریس زازی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافے کی صورت میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو بھی سیاسی اور اقتصادی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسلامی امارت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کابل اور تہران کے درمیان باضابطہ تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اگرچہ ایران نے عبوری حکومت سے محدود رابطے استوار کیے ہیں، تاہم اس حکومت کو رسمی طور پر تاحال تسلیم نہیں کیا گیا۔ اس دوران افغان مہاجرین کا مسئلہ، سرحدی تجارت، ہلمند کے پانی کے حقوق اور سرحدی سلامتی جیسے موضوعات دونوں ملکوں کے مابین مذاکرات کا محور رہے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین