بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیروس شمالی کوریا دفاعی شراکت کو وسعت دینے پر آمادہ

روس شمالی کوریا دفاعی شراکت کو وسعت دینے پر آمادہ
ر

سرگئی شوئیگو کا پیانگ یانگ کا دوسرا دورہ، کم جونگ اُن سے اعلیٰ سطح مذاکرات متوقع

دانشگاه (نیوز ڈیسک) پیانگ یانگ: روسی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو منگل کے روز شمالی کوریا (ڈی پی آر کے) پہنچے جہاں انہوں نے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے لیے پیانگ یانگ کا دورہ کیا۔ یہ دورہ ماسکو اور پیانگ یانگ کے درمیان اسٹریٹجک عسکری تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی کوششوں کا تسلسل ہے۔

یہ دورہ اس سے محض دو ہفتے قبل ہونے والے شوئیگو کے سابقہ دورے کی توسیع ہے اور اس میں اُن وعدوں پر پیش رفت کی جا رہی ہے جو 4 جون کو ہونے والے معاہدوں میں طے پائے تھے۔ روسی سلامتی کونسل کے بیان کے مطابق شوئیگو کا موجودہ دورہ جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے کے تناظر میں طے شدہ امور پر عملدرآمد کے لیے ہے۔

یہ رواں برس میں شوئیگو کا دوسرا دورۂ شمالی کوریا ہے، جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان عسکری اور سیاسی ہم آہنگی میں تیزی آ چکی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب روس یوکرین میں جاری اپنی فوجی مہم میں مصروف ہے۔

جون کے اوائل میں ہونے والی ملاقاتوں میں دونوں فریقین نے باہمی تعلقات کو طاقتور اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ شمالی کوریا کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے سی این اے نے اس پیش رفت کی تصدیق کی۔

کم جونگ اُن سے دو ہفتوں میں دوسرا متوقع رابطہ

روسی خبر رساں اداروں کے مطابق، شوئیگو کے اس دورے کے دوران شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن سے ملاقات متوقع ہے، اگرچہ ملاقات کے ایجنڈے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ مسلسل دو دوروں سے دونوں ممالک کے درمیان مشاورت کی شدت اور سنجیدگی واضح ہوتی ہے، خاص طور پر جب پیانگ یانگ خطے میں ماسکو کے بڑے اتحادی کے طور پر ابھرا ہے۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا نے روس کے کورسک بارڈر کے قریب فوجی مدد فراہم کی ہے اور اسلحہ بھی مہیا کیا ہے، تاہم روسی حکام نے ان خبروں کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

یہ تعاون اس وقت بڑھا جب گزشتہ سال صدر ولادیمیر پیوٹن نے پیانگ یانگ کا ایک غیرمعمولی دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر دونوں ممالک نے ایک وسیع عسکری معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں باہمی دفاع کی شق بھی شامل تھی۔ یہی معاہدہ موجودہ سفارتی سرگرمیوں کی بنیاد بن رہا ہے۔

شوئیگو کا حالیہ دورہ جہاں سابقہ وعدوں پر عملدرآمد کی کوشش ہے، وہیں یہ مشرقی ایشیا میں روس کی بدلتی ہوئی سفارتی ترجیحات اور مغربی اثر و رسوخ کے مقابلے میں عسکری توازن کے قیام کی کوششوں کی بھی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر یوکرین جنگ کے تناظر میں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین