دانشگاه (نیوز ڈیسک) صنعا :
یمنی پارلیمنٹ نے اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت سے متعلق پاکستانی پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد کو سراہا ہے۔
اپنے جاری کردہ بیان میں یمنی پارلیمنٹ نے کہا کہ پاکستانی قرارداد انصاف اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں سے پاکستان کی گہری وابستگی کا مظہر ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل کے خلاف ایران کے ساتھ پاکستان کا کھلا موقف اسلامی اُمت کے اتحاد کی ایک واضح پکار ہے۔
پارلیمنٹ نے عرب اور اسلامی دنیا کے قانون ساز اداروں پر زور دیا کہ وہ فلسطینی عوام اور خطے کے دیگر مظلوم اقوام پر ہونے والی اسرائیلی بربریت پر شرمناک خاموشی توڑیں۔ یمنی پارلیمنٹ نے پاکستان کے مؤقف پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ موقف اُمت کی آزادی، وقار، عزت اور انصاف کی امنگوں کا آئینہ دار ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ اسرائیلی حملوں میں ایرانی فوجی کمانڈروں اور سائنسدانوں کو ٹارگٹ کر کے شہید کیا گیا، جبکہ جمعہ کی صبح کی فضائی بمباری میں متعدد عام شہری، خواتین اور بچے بھی شہید ہوئے۔
شہداء میں ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) کے کمانڈر انچیف میجر جنرل حسین سلامی، بریگیڈیئر جنرل امیر علی حاجی زادہ، جنرل غلام علی رشید، اور بریگیڈیئر جنرل محمد کاظمی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ممتاز جوہری سائنسدان ڈاکٹر فریدون عباسی، ڈاکٹر محمد مهدی تہرانچی، اور ڈاکٹر عبدالحمید منوچہر بھی مختلف حملوں میں شہید ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اسرائیلی مقبوضہ علاقوں پر مسلسل جوابی کارروائیاں کی ہیں، جن کی تعداد جمعہ سے اب تک آٹھ مرحلوں تک جا پہنچی ہے، جو "آپریشن سچا وعدہ III” کا حصہ ہیں۔
اس آپریشن کے تازہ ترین مرحلے کے بعد جاری کردہ بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے پیر کی صبح کیے گئے حملوں کو اب تک کے تمام مراحل سے "زیادہ طاقتور اور تباہ کن” قرار دیا۔

