دانشگاه (نیوز ڈیسک)صنعا – یمن کی وزارتِ خارجہ میں سفیر عبداللہ صبری نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ جمعہ کی صبح اسلامی جمہوریہ ایران پر شروع ہونے والی صیہونی جارحیت کے لیے امریکہ نے اسرائیل کو باقاعدہ منظوری دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کا مقصد ایران پر ناحق اور جابرانہ شرائط کے تحت مذاکرات کی میز پر واپس لانا ہے۔
صبری نے واضح کیا کہ امریکہ صرف ایک تماشائی نہیں بلکہ اس جارحیت میں براہِ راست شریک ہے، جو نہ صرف انٹیلی جنس اور لاجسٹک مدد فراہم کر رہا ہے بلکہ صیہونی ریاست کو حملے کی مکمل سہولت فراہم کر رہا ہے تاکہ واشنگٹن کے حق میں جوہری معاہدہ مسلط کیا جا سکے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکہ جس "امن کے لیے طاقت” کی پالیسی پر کاربند ہے، وہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور کی حکمت عملی کا تسلسل ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا مقصد فوجی دباؤ کے ذریعے تہران پر سیاسی حقائق تھوپنا ہے، نہ کہ برابری اور انصاف پر مبنی مذاکرات کرنا۔
صبری کے مطابق امریکہ نے خطے میں پہلے سے موجود سیکیورٹی کشیدگی کو اپنی مرضی کے جوہری معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے استعمال کیا۔
اسرائیلی حملے کے جواب میں، صبری کا کہنا تھا کہ ایران نے نہایت نپے تلے اور حکمتِ عملی پر مبنی عسکری اقدامات کیے اور مخصوص صیہونی اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا، جو ایک وسیع تر دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ ایران نے زمینی حقائق میں تبدیلی سے قبل کسی سیاسی بات چیت کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کو کسی بھی خطرے کے خلاف اپنے دفاع کا قانونی اور اخلاقی حق حاصل ہے، اور دشمن کی جانب سے داخلی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں کے باوجود، ایرانی عوام کی زبردست حمایت حکومت کے ساتھ ہے۔
صبری نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ اور مغربی طاقتوں کی شمولیت جاری رہی تو یہ جارحیت پورے خطے میں پھیل سکتی ہے، خاص طور پر لبنان، عراق اور شام جیسے ممالک میں، جہاں مزاحمتی قوتیں متحرک ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عراق بھی عسکری تصادم کے دہانے پر ہے، جہاں الحشد الشعبی (پاپولر موبلائزیشن فورسز) دوبارہ مزاحمتی کارروائیاں شروع کر سکتی ہیں۔
صبری نے خبردار کیا کہ اگر جارحیت جاری رہی تو اس سے صیہونی ریاست مزید بحران میں دھنس جائے گی۔ انہوں نے سیاحت کی تباہی، سمندری تجارتی راستوں میں رکاوٹ، مالیاتی منڈیوں میں بے اعتمادی، اور یمنی میزائل حملوں کے باعث ام الرشراش بندرگاہ کی بندش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان عوامل نے نیتن یاہو کی پریشان حال حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
اسرائیلی جارحیت میں تہران کے رہائشی علاقوں سمیت تبریز، خرم آباد، کرمانشاہ، بروجرد اور نطنز جیسے اسٹریٹیجک مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی عسکری ذرائع کے مطابق اس حملے میں 200 سے زائد جنگی طیارے شریک تھے جنہوں نے ایران بھر میں 100 سے زائد اہداف پر 330 سے زیادہ بم اور میزائل برسائے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے عندیہ دیا کہ یہ حملے "کئی دنوں” تک جاری رہیں گے۔
اسرائیلی حملے میں ایران کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) کے چیف کمانڈر میجر جنرل حسین سلامی، خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل غلام علی رشید اور چھ جوہری سائنسدان شہید ہو گئے۔

