بدھ, فروری 18, 2026
ہوممضامیندھوکہ دہی کے پردے میں سفارت کاری: ایران کے خلاف مغرب کی...

دھوکہ دہی کے پردے میں سفارت کاری: ایران کے خلاف مغرب کی جنگ پہلے سے طے شدہ تھی
د

حمید بہرامی | مڈل ایسٹ مانیٹر

جب ایرانی شہروں پر بم برس رہے ہوں اور مشرقِ وسطیٰ کی فضا میں میزائلوں کی بارش ہو رہی ہو، تو حقیقت کو کھل کر بیان کرنا لازم ہو جاتا ہے: یہ صرف اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ نہیں، بلکہ ایک ایسی جنگ ہے جو خودمختاری کے خلاف چھیڑی گئی ہے۔ یہ ایک اسرائیلی-مغربی اتحاد کی مسلط کردہ جنگ ہے، جو طویل عرصے سے اُن تمام ریاستوں کو نیست و نابود کرنے کی منصوبہ بندی کرتا رہا ہے جو عالمی جنوب میں خود مختار راستہ اختیار کرنے کی جسارت کرتی ہیں۔

ایران اس تصادم میں جارح نہیں بلکہ اپنے دفاع میں ہے—قانونی، تاریخی اور اسٹریٹجک اعتبار سے۔ 13 جون کو اسرائیل کی جانب سے کیے گئے فضائی حملے محض روک تھام کی کارروائیاں نہیں تھے، بلکہ ایک طویل المدتی منصوبے کا عملی مظہر تھے جس کا مقصد ایران کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا، اس کے سیاسی نظام کو غیر مستحکم کرنا، اور بالآخر اسے اُن ناکام ریاستوں کی صف میں دھکیل دینا تھا جنہیں ماضی میں عراق، لیبیا اور شام کی صورت میں انسانی ہمدردی یا ایٹمی خطرے کے بہانے سے برباد کیا گیا۔

اس سازش کی جڑیں گہری ہیں۔ حملوں سے قبل مغربی حکام اور اسرائیلی انٹیلی جنس نے نہایت چالاکی سے تہران اور مالیاتی منڈیوں کو یہ تاثر دیا کہ سفارتی عمل حسبِ معمول جاری رہے گا۔ اومان میں ہونے والے مذاکرات ایک پھندہ تھے۔ جب سفارت کار شرائط پر گفتگو کر رہے تھے، تب تل ابیب اور واشنگٹن کے وار رومز میں حملوں کے نقشے آخری شکل اختیار کر رہے تھے۔ یہ ‘چالاکی سے جال بچھا کر وار کرنے’ کی حکمتِ عملی تھی—یعنی سفارت کاری کے پردے میں جنگی حملہ۔

اسرائیل کی طرف سے پیش کیا گیا جواز، کہ وہ ایران کی جوہری صلاحیت سے خوف زدہ ہے، جانچ کے کسی معیار پر پورا نہیں اترتا۔ ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا رکن تھا اور مذاکرات بحال ہو چکے تھے۔ اس کے باوجود ایک ایسا ایٹمی ہتھیار رکھنے والا ملک—جو خود NPT پر دستخط کرنے سے انکاری ہے—نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حملے کیے جن میں درجنوں عام شہری، سائنسدان اور بنیادی تنصیبات کے کارکن مارے گئے۔

اس سے بھی زیادہ مکاری یہ ہے کہ تل ابیب نے اُنہی پرانے الزامات کا سہارا لیا جو وہ پہلے غزہ میں بھی استعمال کر چکا ہے: کہ ایران “انسانی ڈھالیں” استعمال کرتا ہے۔ یہ دعویٰ متعدد بار جھوٹا ثابت ہو چکا ہے۔ اسرائیل کی پروپیگنڈا مہم ثبوت سے زیادہ اس لیے ہے کہ وہ خود کو کسی بھی قانونی احتساب سے بچا سکے۔

تیرہ جون کے اسرائیلی حملے، جن میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی، جنرل اسٹاف کے سربراہ محمد باقری اور میزائل پروگرام کے سربراہ امیر علی حاجی زادہ شہید ہوئے، دراصل “سرقلم” کرنے کی کارروائیاں تھیں۔ اس کے باوجود، ایران نے نہایت ضبط اور تدبر کے ساتھ جواب دیا۔ اس کی جوابی کارروائیاں فوجی اڈوں، تنصیبات اور کمانڈ مراکز تک محدود رہیں—شہری آبادی یا بنیادی خدمات کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ برعکس اس کے، اسرائیل نے بارہا رہائشی عمارتوں پر حملے کیے۔ ایران کا ضبط طاقت کی کمی نہیں بلکہ اصولی پختگی اور عملی مہارت کی علامت ہے۔

کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اسرائیل کو توقع تھی کہ ایران کے اندر اندرونی اختلافات اس کے دفاعی ردعمل کو مفلوج کر دیں گے۔ مگر یہ ایک مہلک غلط فہمی تھی۔ ایران میں نظریاتی تقسیم ضرور ہے، لیکن غیر ملکی حملے کی صورت میں تمام حلقے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ کے ناقدین بھی دفاعِ وطن کی خاطر متحد ہو جاتے ہیں، کیونکہ مسئلہ اب محض حکومتی پالیسی نہیں بلکہ ملکی بقا کا ہے۔

بہت سے میڈیا ادارے یہ ظاہر کر رہے ہیں جیسے اسرائیل نے اب امریکہ سے فوجی مدد “طلب” کی ہو، لیکن درحقیقت امریکہ ابتدا ہی سے اس جنگ میں شریک ہے۔ B-2 بمبار طیارے مہینوں قبل ڈیاگو گارشیا منتقل کیے گئے۔ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مشترکہ حملوں کی منصوبہ بندی جوہری تحفظ کے پردے میں ہوتی رہی۔ بنکر شکن بموں کی تعیناتی، اقوامِ متحدہ میں سفارتی تحفظ، انٹیلی جنس کا تبادلہ، اور علاقائی اڈوں تک رسائی—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ جنگ واشنگٹن کے اشتراک سے لڑی جا رہی ہے۔ وہ صرف اس لمحے کا انتظار کر رہے ہیں جب ایران کی دفاعی صلاحیت اتنی کمزور ہو جائے کہ مکمل جنگ چھیڑی جا سکے۔

یہ ایک مقامی جنگ نہیں بلکہ امریکہ-اسرائیل کی مشترکہ جنگ ہے، جس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن جیسے عرب آمرانہ ریاستیں بھی شامل ہیں۔ مغرب مختلف طریقوں سے، جیسے انٹیلیجنس، لاجسٹک اور سفارتی منظوری کے ذریعے، اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ ایران کو صرف اس لیے گھیرنے اور الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ اس نے مغرب کے آگے جھکنے سے انکار کیا ہے، نہ کہ کسی جوہری خطرے کی وجہ سے۔

تاہم ایران کے پاس بھی اپنے دفاع کے وسائل موجود ہیں۔ خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی معیشت بالخصوص توانائی کے شعبے کو شدید خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے، اور تہران بخوبی جانتا ہے کہ اس کی طاقت صرف میزائلوں میں نہیں بلکہ اقتصادی دباؤ کی صورت میں بھی ہے، جو کہ امریکہ، یورپ اور ریاض کی سیاسی سوچ کو متاثر کر سکتا ہے۔

یہ بھی ایک واضح تضاد ہے کہ اسرائیل خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار رکھتا ہے، جبکہ ایران جو کہ ابھی بھی باضابطہ طور پر NPT کا رکن ہے، محض ایک ممکنہ صلاحیت پر پابندیوں اور دھمکیوں کا شکار ہے۔ یہ دوہرا معیار اب ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ خطے کے مستقبل کے لیے اب صرف دو ہی حقیقی راستے بچے ہیں: یا تو اسرائیل کو غیر مسلح کیا جائے، یا ایران کو ایٹمی طاقت حاصل ہو۔

ایران اب اس بات پر غور کر رہا ہے کہ آیا NPT میں اس کی رکنیت کا کوئی فائدہ باقی ہے یا نہیں، اور یہ کہ بین الاقوامی قانون درحقیقت کسی بھی ایٹمی نسلی امتیاز کے سامنے کوئی تحفظ فراہم کرتا بھی ہے یا نہیں۔ اگر عالمی برادری واقعی امن چاہتی ہے، تو اسے ایران کی دفاعی صلاحیت کو محدود کرنے کے بجائے اسرائیل کی جارحانہ طاقت کو ختم کرنے سے آغاز کرنا ہو گا۔

آخر میں، اس جنگ کو اُس حقیقت کے تناظر میں دیکھنا چاہیے جو یہ دراصل ہے: عالمی جنوب میں مزاحمت کی ہر علامت کو ختم کرنے کی ایک اسٹریٹجک مہم۔ بغداد سے طرابلس، دمشق سے تہران تک، پیغام ہمیشہ یہی رہا ہے—جو خودمختاری کا خواب دیکھے، وہ کچلا جائے گا۔ ایران کی خودمختاری کا خواب محض سیاسی نہیں بلکہ وجودی ہے۔ اور دنیا بھر میں ہر وہ قوم، ہر وہ فرد جس نے نوآبادیات یا غیر ملکی تسلط کا سامنا کیا ہو، اسے ایران کی اس جدوجہد میں اپنا عکس دیکھنا چاہیے۔

یہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض ایران پر جنگ نہیں—بلکہ خودمختاری، عزت اور اقوام کو اپنے مستقبل کا تعین خود کرنے کے حق پر حملہ ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین