بدھ, فروری 18, 2026
ہوممضامیناسرائیل کو ایران پر بمباری کی اجازت دے کر ٹرمپ نے تہران...

اسرائیل کو ایران پر بمباری کی اجازت دے کر ٹرمپ نے تہران کو ایٹمی ہتھیار بنانے پر مجبور کر دیا ہے
ا

تحریر: ڈیوڈ ہیرسٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیل کو ایران پر حملہ کرنے کی اجازت دینا، امریکہ کی حالیہ تاریخ کی بدترین غلطیوں میں سے ایک ہے، جس کا موازنہ صرف اس وقت کے صدر جارج بش کے عراق پر حملے سے کیا جا سکتا ہے۔

بش کے فیصلے نے عراق میں آٹھ سالہ جنگ چھیڑ دی، جس کے نتیجے میں "دی لانسیٹ” کے مطابق کم از کم 655,000 افراد ہلاک ہوئے، داعش جیسی انتہا پسند تنظیم ابھری، اور عراق جیسی بڑی ریاست آج تک مکمل تباہی سے نہ سنبھل سکی۔ مگر ٹرمپ کا فیصلہ اس سے بھی زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

جب امریکی ایلچی تہران سے مذاکرات کر رہے تھے، عین اسی وقت اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو ایران پر حملے کی اجازت دے دینا، امریکی صدارت کو اخلاقی طور پر کسی منشیات فروش کارٹل کے سربراہ، جیسے ایل چاپو یا ال کیپون کے برابر لا کھڑا کرتا ہے۔ یہ کسی عالمی طاقت کا نہیں بلکہ ایک مافیا کا طرزِ عمل ہے۔ اب امریکہ کے وعدے پر کون اعتبار کرے گا؟ کیونکہ جلد یا بدیر ایک زوال پذیر طاقت کو دوسروں کے اعتماد کی ضرورت پڑتی ہے۔

اپنے مخصوص انداز میں، ٹرمپ اور ان کے گرد موجود افراد کو اس تباہی کی کوئی سمجھ نہیں جس کے وہ خالق بنے ہیں۔ وہ ایرانی سفارتکاروں کو دھوکہ دینے پر خوشی منا رہے ہیں، اور بیک وقت اسرائیلی فوج کو سیکڑوں ہیلفائر میزائل اور اصل وقت کی انٹیلیجنس فراہم کر رہے ہیں۔

اسرائیلی ڈرونز نے ایرانی اہداف کو اُن کے گھروں میں یا دفاتر میں جا کر نشانہ بنایا۔ تل ابیب اور واشنگٹن میں اسے بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فخریہ کہا کہ اسرائیل کو "انتہائی عمدہ انٹیلیجنس” فراہم کی گئی۔

اس کے بعد ٹرمپ نے ایرانیوں کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا حکم صادر کیا، گویا وہ کوئی ذاتی کاروباری سودے بازی کر رہے ہوں: ’’ایران کو کوئی معاہدہ کرنا ہو گا، اس سے پہلے کہ کچھ بھی باقی نہ بچے، اور وہ اپنے قدیم ایرانی سلطنت کے بقیہ آثار کو بچا سکے۔ مزید اموات نہیں، مزید تباہی نہیں، بس کر لو، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ خدا تم سب پر رحم کرے۔‘‘

کسی ایسے ملک کو جس کی آبادی 92 ملین ہو اور جو ہزاروں سال کی تہذیب کا وارث ہو، ایسا کہنا حد درجہ نادانی کی بات ہے۔

کل صدام، آج نیتن یاہو

یہ بات اور بھی غیر دانشمندانہ بن جاتی ہے اگر آپ ایران کے اس دردناک تجربے کو ذہن میں رکھیں جو اُس نے آٹھ سالہ ایران-عراق جنگ میں جھیلا، جب اُس پر عراقی صدر صدام حسین نے مغرب کی حمایت سے حملہ کیا۔

ایران کی جوہری افزودگی کی پالیسی اور اس کا میزائل پروگرام دراصل اسی جنگ کی کوکھ سے پیدا ہوئے۔ صدام نے 22 ستمبر 1980 کو اس وقت حملہ کیا جب ایران اندرونی انقلابی خلفشار میں مبتلا تھا، فوج کا بڑا حصہ ختم ہو چکا تھا، اور ایک غیر تجربہ کار پاسداران انقلاب اسلامی میدان میں تھی۔

اسلحے کی اس قدر قلت تھی کہ ہتھیار ایک فوجی سے دوسرے کو اس وقت ملتے جب پہلا محاذ پر شہید ہو چکا ہوتا۔ صدام کو بھی نیتن یاہو کی طرح امریکی اور یورپی حمایت حاصل تھی۔ کیمیکل ہتھیار بنانے کا سامان جرمن کمپنیوں سے آیا، اور ان کے استعمال کے باوجود مغرب نے آنکھیں بند رکھیں۔

سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن نے ڈونلڈ رمزفیلڈ کو صدام سے ہاتھ ملوانے بھیجا۔ اُس وقت امریکی ہدف صرف خلیج میں اپنے فوجی اور تیل کی رسد کو محفوظ بنانا تھا۔ صدام کے کیمیکل ہتھیاروں سے انہیں کوئی سروکار نہیں تھا۔ لیکن ایرانی عوام آج تک ان حملوں کو نہیں بھولے، اور ان کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔

گہری دفاعی حکمتِ عملی

یہی جنگ ایران کی اس پالیسی کی بنیاد بنی جس نے اسے اپنی سرحدوں سے لے کر بحیرۂ روم تک مزاحمتی تنظیموں کا نیٹ ورک بنانے پر مجبور کیا۔ ایران کا "محور مزاحمت” بظاہر کمزور ہوا ہے، مگر اس کی اصل وجہ اسرائیلی اور مغربی انٹیلیجنس کا مربوط نیٹ ورک ہے جس نے حزب اللہ، پاسداران اور ان کے اہلِ خانہ کو نشانہ بنایا۔

لبنان میں حزب اللہ کو مکمل شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ اس نے اسرائیلی کمانڈوز کو روکنے میں کامیابی حاصل کی، لیکن گزشتہ نومبر میں جنگ بندی اس کی شکست کا واضح اشارہ تھی۔

ایران اور حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر حملے سے گریز کو کمزوری سمجھا گیا۔ دراصل، یہی "حکمتِ عملی کی برداشت” تھی، جو نیتن یاہو نے کمزوری سمجھ کر ایران پر کاری وار کر دیا۔

ایک طویل جنگ؟

نیتن یاہو 1980 کے صدام یا 2003 کے بش کی طرح فوری جنگ اور جلد فتح کا خواب دیکھ رہا ہے۔ لیکن یہ جنگ کسی کمزور گروہ کے خلاف نہیں، بلکہ ایک حقیقی ریاست اور منظم فوج کے خلاف ہے۔

ایران کے پاس اپنی افزودگی کی تنصیبات زمین کے نیچے آدھا میل گہرائی میں قائم ہیں۔ وہ لمحوں میں آبنائے ہرمز بند کر سکتا ہے جہاں سے دنیا کا 21 فیصد تیل گزرتا ہے۔ اس کے پاس روس اور چین جیسے اتحادی بھی ہیں۔

یوکرین کے مطابق، روس اب تک ایرانی شہید ڈرونز کی 8,000 سے زائد پروازیں کر چکا ہے۔ کیا ایران اب روس سے ایس-400 ڈیفنس سسٹم مانگے گا؟ یہ بعید نہیں، خاص طور پر جب اسرائیل ایران کے مغربی علاقوں میں آزادی سے پروازیں کر رہا ہے۔

پیوٹن، جس نے کبھی ایران کو روسی دفاعی نظام کی ترسیل روکی، اب نیتن یاہو سے سخت ناراض ہے۔ حماس کے دورۂ ماسکو پر اُس کا "سالگرہ کا تحفہ” کہنا بھی ایک پیغام تھا۔

اگر ایران کے بعد شام میں بشار الاسد بھی ختم ہوا، تو کیا روس خاموش تماشائی بنے گا؟

امریکہ کو جنگ میں گھسیٹنا

اسرائیل کے عوام پر بھی اب وہی خوف طاری ہے جو وہ برسوں سے غزہ اور لبنان پر مسلط کرتے آئے ہیں۔ اسرائیلی بیدار ہو چکے ہیں کہ اب وہ خود بھی عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں۔

اگر ایران کی میزائل بارش جاری رہی تو نیتن یاہو امریکہ کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے کا سوچ سکتا ہے، ممکن ہے کسی امریکی اڈے پر فرضی حملے کی منصوبہ بندی بھی زیر غور ہو۔ ٹرمپ اب تک اُس کے ہاتھوں مکمل قابو میں دکھائی دیتے ہیں۔

اگر ایران کے روایتی دفاعی ذرائع ختم کر دیے گئے تو وہ بم کی طرف رجوع کرے گا — یہی منطق پوتن نے اختیار کی جب کریمیا کو کھونے کا خطرہ محسوس ہوا۔ جوہری جنگی حکمتِ عملی میں یہ اصول تسلیم شدہ ہے کہ جس ریاست کے روایتی ذرائع دفاع کمزور ہوں، وہ ایٹمی ہتھیار کو پہلے استعمال کرنے میں بھی ہچکچاہٹ نہیں رکھتی۔

فی الحال ایران کی قیادت کی جانب سے ایسا کوئی عندیہ نہیں، لیکن ایرانی عوام کی رائے پہلے ہی بڑی حد تک بم کے حق میں ہے۔

ٹرمپ کہتا ہے وہ خلیج میں دوسرا شمالی کوریا برداشت نہیں کرے گا — مگر یہی وہ صورتحال ہے جسے وہ خود جنم دے رہا ہے۔

یہ جنگ اگر رک بھی جائے، تو ایران کے جوہری پروگرام کے استحکام کی قیمت اب پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین