تحریر: زاویئر ویلر
ایران پر اسرائیلی حملوں نے بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اداروں کی افادیت پر سوال اٹھا دیے ہیں
یہ جارحانہ اقدامات کسی سفارتی حل یا مکالمے کی کوشش نہیں بلکہ ایران کی اسٹریٹجک صلاحیت کو کمزور کرنے کی ایک واضح کوشش ہیں، جو نہ صرف خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں۔
اسرائیلی حملہ اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی
ایرانی جوہری تنصیبات پر حالیہ اسرائیلی حملے — جیسا کہ نطنز اور فردو میں — نہ تو محض اتفاقی واقعات ہیں اور نہ ہی انہیں جائز دفاعی اقدامات قرار دیا جا سکتا ہے۔ ماہرین اور بین الاقوامی اداروں کے مطابق، یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی واضح خلاف ورزی ہیں، جو کسی بھی رکن ملک کی علاقائی سالمیت یا خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کو ممنوع قرار دیتا ہے۔
یہ جوہری تنصیبات 2003 سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی کڑی نگرانی میں ایک اعلان شدہ پُرامن پروگرام کا حصہ رہی ہیں، جسے آزادانہ رپورٹس نے بھی تسلیم کیا ہے۔ ان پر حملہ IAEA کے قانون کے آرٹیکل 12 کی بھی خلاف ورزی ہے، جو ان تنصیبات پر کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ ان حملوں سے نہ صرف سیاسی بلکہ ماحولیاتی اور انسانی خطرات بھی پیدا ہوتے ہیں، خاص طور پر ایک ایسے خطے میں جو پہلے ہی غیر مستحکم ہے۔ IAEA نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا تو تابکار آلودگی کا سنگین خطرہ ہے — ایک ایسا امکان جسے حملہ آور نے نظرانداز کیا۔
اس کے علاوہ ایران کی فضائی حدود اور اس کے ہمسایہ ممالک عراق اور شام کی حدود کی خلاف ورزی بھی کی گئی، جس سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
ایران کا ردعمل: بین الاقوامی قانون کے تحت جائز دفاع
بین الاقوامی قانون کے تناظر میں، ایران کا ردعمل نہ صرف قابلِ فہم بلکہ مکمل طور پر جائز ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 ریاستوں کو مسلح حملے کی صورت میں فطری حقِ دفاع دیتا ہے۔ یہ حق اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب سلامتی کونسل سیاسی ویٹوز کی وجہ سے معطل ہو جائے، جیسا کہ اکثر ہوتا ہے۔
ایران کا ردعمل — جس میں اسرائیل کے عسکری اور اسٹریٹجک اہداف پر بیلسٹک میزائل داغے گئے، جیسا کہ حیفا میں بحری اڈہ اور مرکزی آئل ریفائنری — اسی قانونی حقِ دفاع کے دائرے میں آتا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا میں نشر ہونے والی ویڈیوز، جنہیں اسرائیل کی سنسرشپ کے باوجود شائع کیا گیا، ان کارروائیوں کے نمایاں اثرات کو ظاہر کرتی ہیں اور یہ پیغام دیتی ہیں کہ جارحیت کا جواب ضرور دیا جائے گا۔
مغربی منافقت اور بین الاقوامی قانون کا دہرا معیار
اس تنازع کو مغربی میڈیا میں چھائی ہوئی سادہ بیانیہ کے بجائے ایک گہرے قانونی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، جہاں اسرائیل کو مظلوم اور ایران کو بلاجواز حملہ آور کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ بیانیہ حقیقت کو مسخ کرتا ہے اور ایک تکلیف دہ قانونی سچائی کو چھپاتا ہے: بین الاقوامی قانون کا انتخابی اور مفادات پر مبنی اطلاق۔
اسرائیل، جو عالمی فوجداری عدالت (ICC) کے روم اسٹیچوٹ کا رکن نہیں، ایسے اقدامات کا مرتکب ہوا ہے جنہیں بین الاقوامی جرائم کے زمرے میں لایا جا سکتا ہے، بشمول شہری آبادیوں کو خطرے میں ڈالنے والے حملے اور دیگر ریاستوں کی خودمختاری کی خلاف ورزی۔ اس کے باوجود اسے امریکہ اور دیگر مغربی اتحادیوں کی غیر متزلزل سیاسی حمایت حاصل ہے، جو قانون کے نفاذ اور احتساب کو ناقابلِ عمل بنا دیتی ہے۔
یہ دہرا معیار بین الاقوامی قانونی نظام کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور ان خطوں میں عدم اعتماد اور ناراضی کو جنم دیتا ہے جہاں قانون کو طاقتور ریاستوں کے مفادات کا آلہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، ایران کا دفاع بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اصولوں کی بنیاد پر ہے — جنہیں سیاسی بیانیہ میں دانستہ نظرانداز کیا جاتا ہے۔
یہ صورتحال بین الاقوامی قانون کے اس استحصالی کردار کو آشکار کرتی ہے جو مغربی بالادستی کو تحفظ دینے اور اپنے مفادات کے لیے مداخلت کو قانونی جواز دینے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ پروفیسر کوستاس ڈوزیناس نے عالمی قانونی نظام کو مغربی سیاسی و عسکری غلبے کے تسلسل کا آلہ قرار دیتے ہوئے یہی نکتہ اجاگر کیا ہے۔
سلامتی کونسل کی ناکامی اور حقِ دفاع
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، جس کی بنیادی ذمہ داری عالمی امن اور سلامتی کا تحفظ ہے، ان حملوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں مکمل ناکام رہی ہے، جس کی بڑی وجہ ویٹوز اور سیاسی تعطل ہے۔ یہ حقیقت ایران کے لیے آرٹیکل 51 کے تحت جائز دفاعی اقدامات کو مزید قانونی جواز فراہم کرتی ہے، جو کسی بھی ریاست کو غیر اعلانیہ حملے کی صورت میں اپنے وجود کے تحفظ کے لیے فوجی کارروائی کی اجازت دیتا ہے، خاص طور پر جب سفارتی یا کثیرالطرفہ ادارے مفادات کی سیاست میں معطل ہو چکے ہوں۔
یہ حالیہ کشیدگی اچانک پیدا نہیں ہوئی، بلکہ برسوں کی پابندیوں، یکطرفہ دشمنیوں اور مسلسل دباؤ کا نتیجہ ہے، جس نے ایران کو ایک مستقل نشانہ بنا دیا ہے۔ اسرائیل، جسے واشنگٹن کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے، طویل عرصے سے ایران کی جوہری اور عسکری صلاحیتوں کو ختم کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے — ایک ایسا منصوبہ جو تہران کے لیے وجودی خطرہ بن چکا ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان سرد جنگ اب کھلی دشمنی میں بدل چکی ہے، جس کے علاقائی اور عالمی اثرات ممکنہ طور پر پورے مشرقِ وسطیٰ کو مزید غیر مستحکم کر سکتے ہیں۔
ایک ایسا تنازع جو جغرافیائی سیاست اور معاشی مفادات سے جڑا ہے
اس تنازع کو تنقیدی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے، جو اس خطے میں جاری سامراجی اور نوآبادیاتی قوتوں کے کھیل کو نمایاں کرتی ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی بین الاقوامی قانون کو اپنے تزویراتی و معاشی مفادات کے لیے قانونی جواز کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جبکہ جو ریاستیں اس غلبے کی مزاحمت کرتی ہیں انہیں مجرم بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
ایران کے خلاف جنگ دراصل توانائی اور جغرافیائی بالادستی کے حصول کی جنگ ہے، جہاں بین الاقوامی قانون کو محض ایک آلہ بنا کر منتخب جارحیت اور تباہ کن اقتصادی پابندیوں کو جواز فراہم کیا جاتا ہے۔
بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی روشنی میں، اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران کی دفاعی کارروائیاں مکمل طور پر جائز ہیں کیونکہ یہ بلااشتعال جارحیت کے خلاف خودمختاری کے تحفظ اور اقوام متحدہ کے چارٹر و جوہری معاہدوں کے بنیادی اصولوں کے دفاع میں کی گئی ہیں۔
سلامتی کونسل کی ناکامی اس بحران کو مزید سنگین بنا دیتی ہے اور ایک ایسے کثیرالطرفہ نظام کی فوری اصلاح کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے جو طاقتور ریاستوں کی بالادستی کے سامنے بے بس ہو چکا ہے۔ ایران کے دفاعی حق کو تسلیم کرنا اور اس کا احترام کرنا محض ایک قانونی تقاضا نہیں، بلکہ ایک ناگزیر قدم ہے تاکہ مسلط کی گئی جنگ ایک ہمہ گیر تباہی میں نہ بدل جائے۔

