تحریر: المیادین
غزہ میں جاری روزانہ کی بربریت اور اجتماعی اذیتوں کے باوجود فلسطینی عوام، زندہ ہوں یا شہید، اسرائیلی ریاست کو ایک ایسے وجودی بند گلی میں دھکیل چکے ہیں جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار میں آتے ہی اپنی پالیسیوں کو جو بائیڈن سے بالکل مختلف ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر فتح یابی اور لاامت جنگوں کے خاتمے کے وعدے کیے، لیکن حقیقت میں ان کی ناکامیاں ایک کے بعد ایک سامنے آتی گئیں۔ مارچ میں جب انہوں نے غزہ میں اسرائیل کو قتل عام دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی، تو ان کی پہلی بڑی ناکامی مشرقِ وسطیٰ میں ہی سامنے آئی، حالانکہ اسی جنگ بندی کو انہوں نے اپنے دور کی سب سے بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا تھا۔
اسرائیلی مظالم کے باوجود فلسطینیوں نے امریکہ سے منسلک ایک اسرائیلی قیدی کو جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کیا تاکہ ٹرمپ کی مذاکراتی نیت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ لیکن اس کے بدلے میں قتل عام میں مزید شدت، امریکی سرپرستی میں جاری نسل کشی اور دھوکہ دہی پر مبنی مذاکرات کی پیشکش سامنے آئی۔
ٹرمپ کا یہ دوغلا کردار اسی وقت مزید بےنقاب ہوا جب ان کے مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی نے حال ہی میں فلسطینی مزاحمت سے تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا، وہ بھی کسی ٹھوس ضمانت یا مراعات کے بغیر۔
مزید برآں، ٹرمپ نے مصر اور اردن پر دباؤ ڈال کر فلسطینیوں کو غزہ سے جبری نکالنے کی کوشش کی، لیکن ان ممالک نے امریکی، یورپی اور اماراتی دباؤ کو مسترد کر دیا۔ ان کے پاس سعودی عرب، قطر اور امارات سے ملنے والی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہی واحد سیاسی فتح رہی، جو ان کی ذاتی قائل کرنے کی صلاحیت نہیں بلکہ امریکہ کے نوآبادیاتی کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ جنگ بندی کی مخالفت کر کے، امریکہ نے خود کو ایک بار پھر تنہا کر دیا، اور ٹرمپ اس تنہائی کو مزید گہرا کرتے گئے۔ مارچ 2024 میں محض ایک مرتبہ بائیڈن انتظامیہ نے قرارداد پر رائے شماری میں حصہ نہ لے کر اسے منظور ہونے دیا، لیکن اس پر عملدرآمد کروانے کی کسی مغربی قوت نے کوئی کوشش نہ کی۔
اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت کی احتیاطی ہدایات پر عمل درآمد نہ ہونے پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی کبھی سنجیدگی نہ دکھائی۔ اسی تناظر میں فلسطینی مزاحمت اب امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کر چکی ہے جب تک کہ جنگ بندی معاہدے کے سابقہ نکات جیسے طویل مدتی امن، اسرائیلی فوج کا انخلا، اور انسانی امداد کی فراہمی شامل نہ ہوں۔
خوراک کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بھی ٹرمپ کی بڑی ناکامی ثابت ہوا۔ امریکی قید خانے کے ماڈل کو فلسطین میں نافذ کرنے کی کوشش کے تحت فلسطینیوں کو شدید ظلم کا نشانہ بنا کر اس مقام تک لانے کی کوشش کی گئی جہاں وہ خود ہی ہجرت کی التجا کریں۔
اسی حکمت عملی کے تحت اقوام متحدہ کی ایجنسی UNRWA کو بے دخل کیا گیا اور مقامی این جی اوز کو کچلنے کی کوشش کی گئی تاکہ خوراک کی تقسیم GHF نامی اسرائیلی و امریکی کرائے کے ادارے کو سونپی جا سکے، جس نے اس عمل کو اجتماعی اذیت میں بدل دیا۔ بالآخر، یہ حکمت عملی اس وقت ناکام ہوئی جب خوراک کی تقسیم کے مراکز قتل گاہوں میں تبدیل ہو گئے، اور GHF کو معطل کر دیا گیا۔
یمن کے خلاف امریکہ کی عسکری مہم بھی بدترین ناکامی میں بدل گئی۔ لاکھوں ڈالر کی لاگت کے باوجود، کئی ریپر ڈرونز مار گرائے گئے، تین F-18 طیارے تباہ ہوئے، اور ایک F-35 بال بال بچا۔ سب سے زیادہ نقصان USS Harry Truman کو پہنچا، جسے امریکی بیانیے میں ایک تجارتی جہاز سے تصادم قرار دیا گیا۔
یمنی ڈرونز کے خلاف امریکی بحریہ کو توپخانے کا استعمال کرنا پڑا کیونکہ جدید دفاعی نظام ناکارہ ہو چکا تھا۔ یمن کی طاقت نے یورپی جنگی جہازوں کو بھی ریڈ سی سے فرار پر مجبور کر دیا، اور امریکہ تنہا رہ گیا۔
یہ سب امریکی سامراج کے لیے خطرے کی گھنٹی بن گیا ہے، کیونکہ کسی امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کا غرق ہونا تاریخ میں پہلی بار ہو سکتا ہے، اور یہ علامتی اعتبار سے امریکہ کے زوال کا اعلان ہو گا۔
یمن میں امریکہ نے شام کے ماڈل پر ایک نیا منصوبہ ترتیب دیا، جس میں اماراتی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے ذریعے صنعاء کی حکومت کو گرانا مقصود تھا۔ لیکن انصاراللہ کی قیادت میں موجود حکومت کے ممکنہ مکمل کنٹرول نے امریکہ کو اس منصوبے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔
اب ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اسرائیلی نوآبادی کا وجود بچانا ہے، جس کے لیے وہ فلسطین کو فلسطینیوں سے خالی کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ لیکن فلسطینی عوام، جو کہ غزہ، مغربی کنارے اور 1948 کے علاقوں میں اسرائیلی آبادی سے کہیں زیادہ ہیں، اس منصوبے کو ناکام بنا رہے ہیں۔
امریکہ اور یورپ، جو نوآبادیاتی ماہرین ہیں، سمجھتے ہیں کہ آبادیاتی جنگ ہی اس خطے کا اصل میدان ہے۔ غزہ اور مغربی کنارے سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی ہی ان کا ہدف ہے۔ لیکن دونوں میں طریقہ کار کا اختلاف ہے — یورپ یہ نسلی صفائی کم پرتشدد طریقے سے کرنا چاہتا ہے تاکہ اسرائیل کی جمہوریت کی تصویر بحال کی جا سکے۔
تاریخ گواہ ہے کہ الجزائری یا جنوبی افریقی نوآبادیات کی طرح، جب نوآبادکار بند گلی میں پہنچتے ہیں تو وہ دہشتگردی اور پرتشدد انتہا پسندی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ لیکن فلسطین میں یہ رجحان ایک ریاستی پالیسی کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کے پاس ایٹمی ہتھیار بھی موجود ہیں۔
77 سال سے جاری مغربی سرپرستی میں اسرائیلی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ ان کے لیے خطے میں جیوپولیٹیکل تناظر کو مکمل طور پر بدلنے کا واحد راستہ ایران کے خلاف ایک وسیع جنگ ہے۔
اس جنگ کے ذریعے وہ دو اہم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں: ایک تو ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کر کے خطے میں اپنی ایٹمی بالادستی کو برقرار رکھنا، اور دوسرا خونریز مناظر کے ذریعے مغرب کو ہمدردی پر مجبور کر کے غزہ کو خالی کرنے کے منصوبے پر عالمی خاموشی حاصل کرنا۔
لیکن امریکہ کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کا مطلب علاقائی اڈوں کی تباہی، تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ، مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کا خاتمہ اور نئے عالمی نظام کی آمد ہو گا۔
اسی لیے امریکہ، لبنان 1982 کی طرز پر غزہ سے فلسطینی مزاحمت کو بےدخل کرنے کی کوشش کرے گا، مگر چونکہ یہ فلسطینیوں کی اپنی سرزمین ہے، کوئی مہاجر کیمپ نہیں، اس لیے یہ منصوبہ بھی ناکامی سے دوچار ہو گا۔
یہ بھی واضح نہیں کہ امریکہ اپنے اسرائیلی نوآبادکاروں کے ہر اقدام پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے یا نہیں، لیکن وہ ان کے جرائم کا برابر کا ذمہ دار ہے، چاہے وہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال تک کیوں نہ پہنچیں۔
تاریخی تجربات بتاتے ہیں کہ شدت پسندی کی راہ اختیار کرنے کے باوجود نوآبادکار ناکام ہوتے ہیں۔ جیسے الجزائر اور جنوبی افریقہ میں نوآبادیاتی نظام کا خاتمہ ہوا، ویسے ہی فلسطین میں بھی چند سالوں میں اسرائیلی تسلط کا سورج غروب ہو گا۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا امریکہ اور یورپ اس انجام تک پہنچنے کے لیے پورے خطے کو موت اور تباہی کے اندھے کنویں میں دھکیلنے پر آمادہ ہیں؟

