بدھ, فروری 18, 2026
ہوممضامیناسرائیل نے ایٹمی ہتھیار کیسے حاصل کیے؟ ایک چھپی ہوئی تاریخ

اسرائیل نے ایٹمی ہتھیار کیسے حاصل کیے؟ ایک چھپی ہوئی تاریخ
ا

تحریر : کت کلارن برگ

کت کلارن برگ نے صہیونی ریاست کے ایٹمی ہتھیاروں کے خفیہ پروگرام کو بے نقاب کیا ہے—ایسا سیاہ اور پوشیدہ باب جو آج بھی عالمی عدم استحکام کو ہوا دے رہا ہے مگر عالمی احتساب سے بچا ہوا ہے۔

13 جون کو صہیونی ریاست نے ایران پر ایک وسیع، بلاجواز اور مجرمانہ فوجی حملہ کیا، جسے تہران کے مبینہ ایٹمی عزائم کو روکنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا گیا۔ ایران بارہا ایسے عزائم کی تردید کر چکا ہے، اور نومبر 2007 کی امریکی نیشنل انٹیلی جنس اسیسمنٹ نے "اعلیٰ درجے کے اعتماد” سے کہا کہ "2003 کی خزاں میں” ایران نے ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق تمام تحقیق بند کر دی تھی۔ یہ مؤقف کئی برس تک برقرار رہا اور بتایا جاتا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ادارے موساد نے بھی اس سے اتفاق کیا تھا۔

اس کے برعکس، بنیامین نیتن یاہو تقریباً ہر سال دعویٰ کرتے رہے کہ ایران ایٹمی طاقت بننے سے صرف چند سال دور ہے، اور اسی بنیاد پر فوجی کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے۔ مگر ان کا یہ خوف اس وقت ایک مکروہ تضاد اختیار کر لیتا ہے جب ہم تل ابیب کے اپنے ایٹمی پروگرام پر نظر ڈالتے ہیں—جسے عالمی سطح پر سب سے زیادہ "کھلا راز” کہا جا سکتا ہے۔

صہیونی ریاست برسوں سے "سمسن آپشن” کے نظریے پر عمل پیرا ہے۔ اس پالیسی کے تحت، اگر اسے وجودی خطرہ لاحق ہو، تو وہ صرف خطے کے دشمنوں پر نہیں بلکہ اپنے مغربی سرپرستوں پر بھی جوابی ایٹمی حملہ کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ اسرائیلی فوجی نظریہ دان مارٹن وان کریویلڈ نے ستمبر 2003 میں بڑے فخر سے کہا تھا:

"ہمارے پاس سینکڑوں ایٹمی وارہیڈز اور میزائل ہیں جو ہم مختلف سمتوں میں داغ سکتے ہیں، شاید روم تک بھی۔ بیشتر یورپی دارالحکومت ہماری زد میں ہیں…ہمارے پاس دنیا کو ساتھ لے کر تباہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ اور میں یقین دلاتا ہوں کہ ایسا اسرائیل کے ختم ہونے سے پہلے ہو گا۔”

ایسے واضح انکشافات کے باوجود، صہیونی ریاست "جان بوجھ کر ابہام” کی پالیسی پر سختی سے کاربند ہے، اور باضابطہ طور پر اپنے ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی کو تسلیم یا مسترد نہیں کرتی۔ نومبر 2023 میں جب نیتن یاہو کے ایک وزیر نے غزہ پر ایٹمی حملے کی وکالت کی، تو انہیں معطل کیا گیا، مگر یہ سزا اس سلوک کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو مردخائی وانونو کے ساتھ کیا گیا۔

وانونو اسرائیل کا ایک سابق نیوکلیئر ٹیکنیشن تھا جس نے 1986 میں برطانوی میڈیا کو تل ابیب کے ایٹمی پروگرام کی تفصیلات فراہم کیں۔ موساد نے اسے روم بلا کر اغوا کیا، خفیہ مقدمے میں سزا سنائی گئی، اور وہ 18 برس قید میں رہا، جن میں بیشتر وقت تنہائی میں گزارا۔ رہائی کے بعد بھی اسے اظہار رائے اور نقل و حرکت پر سخت پابندیوں کا سامنا رہا، جن کی خلاف ورزی پر اسے کئی بار دوبارہ قید میں ڈالا گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت کئی عالمی ادارے اسرائیل کی ان کارروائیوں کو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دے چکے ہیں۔

وانونو کی بہادری کے وقت مغربی حکومتیں اور انٹیلی جنس ایجنسیاں پہلے ہی کئی دہائیوں سے اسرائیل کے ایٹمی پروگرام سے آگاہ تھیں۔ یہ کہ صہیونی ریاست نے ایٹمی صلاحیت کیسے حاصل کی—یہ ایک کہانی ہے چوری، فریب، خفیہ سازشوں، خطرناک گٹھ جوڑ اور سیاسی مصلحتوں کی، جس کے تمام پہلو آج بھی مکمل طور پر سامنے نہیں آئے۔

محض ظاہری بھروسا

اسرائیل کا ایٹمی ہتھیاروں کا پروگرام ابتدا ہی سے "راز در راز” تھا۔ 1957 میں فرانس نے صہیونی ریاست کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کیا، جس کے نتیجے میں دیمونا نیوکلیئر پاور پلانٹ کی بنیاد رکھی گئی۔ بظاہر پیرس کو معلوم نہیں تھا کہ یہ تنصیب جلد ہی ایک خفیہ زیرِ زمین ری پروسیسنگ سہولت میں بدل جائے گی جو ہتھیاروں کے قابل پلوٹونیم تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ امریکہ کو دیمونا کی موجودگی کا علم، اور اس کی فوجی افادیت کی خبر، دسمبر 1960 تک نہ ہو سکی۔

اسی ماہ، سی آئی اے کی ایک خفیہ رپورٹ میں اس بات پر غور کیا گیا کہ اگر اسرائیل نیوکلیئر ہتھیار حاصل کر لے تو اس کے کیا اثرات ہوں گے۔ اس رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا کہ دیمونا کا ایک "اہم مقصد” ہتھیاروں کے لیے پلوٹونیم تیار کرنا ہے، اور اس کے ممکنہ اثرات کو "انتہائی سنگین” قرار دیا گیا۔ ایک ممکنہ ردعمل یہ ہو سکتا تھا کہ شمالی افریقہ اور مغربی ایشیا کے عرب اور مسلمان ممالک، خطرہ محسوس کرتے ہوئے، سوویت یونین سے فوجی امداد طلب کریں۔

سی آئی اے نے یہ بھی پیش گوئی کی کہ اسرائیل کا یہ اقدام خطے میں مغربی مفادات پر بھی حملہ تصور کیا جا سکتا ہے، اور یہ دنیا کے دیگر ممالک کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی طرف راغب کر سکتا ہے۔ 19 جنوری 1961 کو، اپنی حلف برداری سے ایک دن قبل، جان ایف کینیڈی نے صدر ڈوائٹ آئزن ہاور کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں اسرائیل کے نیوکلیئر پروگرام کو خاص اہمیت حاصل رہی۔

31 جنوری کو، کینیڈی نے اسرائیل میں سبکدوش ہونے والے امریکی سفیر اوگڈن ریڈ سے تفصیلی بریفنگ لی۔ ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات بتاتی ہیں کہ کینیڈی کو دیمونا میں "خاص دلچسپی” تھی۔ 1950 کی دہائی میں بطور کانگریس رکن وہ نیوکلیئر پھیلاؤ اور تجربات کے خلاف شدید مؤقف رکھتے تھے۔ اسرائیل کو ایٹمی صلاحیت دینے کے سخت خلاف تھے، اور صدارت سنبھالتے ہی انہوں نے وزیرِ اعظم ڈیوڈ بن گوریون پر شدید دباؤ ڈالا کہ دیمونا میں امریکی معائنہ کاروں کو داخلے کی اجازت دی جائے۔

ریڈ کا ماننا تھا کہ بن گوریون کے اس بیان کو کہ دیمونا صرف ایک "تحقیقی ری ایکٹر” ہے، جو صنعت، زراعت، صحت اور سائنسی ترقی کے لیے کام کرے گا، قابلِ اعتبار سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم کینیڈی نے اس سے شدید اختلاف کیا اور بن گوریون کو واضح طور پر آگاہ کر دیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بہتری کی بنیادی شرط دیمونا کی باقاعدہ تفتیش ہے۔ آخر کار، مئی 1961 میں اسرائیل نے اجازت دے دی اور امریکی معائنہ کار دیمونا پہنچے۔

ان کے جائزے میں کہا گیا کہ دیمونا صرف بجلی پیدا کرنے کی غرض سے استعمال ہو رہا ہے، اور اس کا فوجی استعمال نہیں ہو رہا۔ یہ غلط نتیجہ فرانسیسی اور اسرائیلی انجینیئرز کی جانب سے معائنہ کاروں کو جھوٹ بولنے اور ان حصوں کو چھپانے سے حاصل ہوا جہاں ایٹمی ہتھیاروں پر کام ہو رہا تھا۔ مارچ 1967 تک امریکی محکمہ خارجہ کی انٹیلی جنس رپورٹ نے یہ سازش بے نقاب کی کہ اسرائیل دیمونا میں ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔

مجرمانہ حد تک نااہلی… یا کچھ اور؟

ان برسوں کے دوران، امریکہ کی جانب سے دیمونا پر کی گئی متعدد تحقیقات نے انہی غلط نتائج کو دہرایا جو ابتدائی معائنے میں پیش کیے گئے تھے۔ تاہم، صدر جان ایف کینیڈی اپنی وفات تک قائل رہے کہ صہیونی ریاست ایٹمی ہتھیار بنانے کا مصمم ارادہ رکھتی ہے، اور ممکن ہے کہ وہ پہلے ہی یہ صلاحیت حاصل کر چکی ہو۔ اپنی موت سے چھ ماہ قبل، کینیڈی نے بن گوریون کو ایک خفیہ پیغام بھیجا، جس میں اسرائیل کے ایٹمی پروگرام سے جُڑے عالمی استحکام پر "خطرناک اثرات” پر گہری تشویش ظاہر کی گئی۔ ساتھ ہی دیمونا کے باقاعدہ معائنے کی "شدید ضرورت” پر بھی زور دیا۔

کینیڈی کی جانب سے اسرائیل کے ایٹمی عزائم کی کھلی مخالفت کو دیکھتے ہوئے، یہ حیرت کی بات نہیں کہ کئی دہائیوں سے یہ نظریہ گردش کر رہا ہے کہ اسرائیل کا ان کے قتل میں کسی نہ کسی طور کردار رہا۔ 2004 میں مردخائی وانونو نے کھلے عام یہ الزام لگایا کہ ایسی "قریباً یقینی علامات” موجود ہیں کہ صدر کینیڈی کو اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ انہوں نے بن گوریون پر دیمونا کے نیوکلیئر ری ایکٹر کو شفاف بنانے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ اگرچہ اس الزام کے ثبوت میں کوئی "سگریٹ پینے والی بندوق” (Smoking Gun) اب تک منظر عام پر نہیں آئی، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر جاری کردہ چند حساس دستاویزات اس مفروضے کو تقویت ضرور دیتی ہیں۔

1992 میں تحقیقی صحافی سیموئل کاٹز نے دعویٰ کیا کہ سی آئی اے کے سابق کاؤنٹر انٹیلی جنس سربراہ جیمز جیزس اینگلٹن برسوں تک خفیہ طور پر اسرائیل کے ایٹمی پروگرام کو ایجنسی کی مدد فراہم کرتے رہے۔ آج کے دور میں سامنے آنے والی جے ایف کے سے متعلق ڈی کلاسیفائیڈ فائلز اینگلٹن کے اسرائیل سے گہرے اور طویل تعلقات کو عیاں کرتی ہیں۔ ایک ڈی کلاسیفائیڈ میمو، مورخہ جون 1953، یہ ظاہر کرتا ہے کہ اینگلٹن کی بنیادی انٹیلیجنس معلومات کا ذریعہ اسرائیل تھا۔

دیگر دستاویزات کے مطابق، اینگلٹن سی آئی اے کے اندر ایک علیحدہ نیٹ ورک چلا رہے تھے، جس کا اصل فائدہ اسرائیل کو پہنچ رہا تھا۔ جون 1975 کی ایف بی آئی رپورٹ بعنوان "امریکہ میں اسرائیلی انٹیلیجنس کی صلاحیتیں” میں اینگلٹن کے اسرائیل کے ساتھ "خصوصی تعلق” کی تفصیل دی گئی ہے، جس کے مطابق وہ انتہائی حساس معلومات خود واشنگٹن ڈی سی میں اسرائیلی سفارتخانے تک پہنچاتے تھے۔

اسی وقت، ایف بی آئی امریکہ کی نیوکلیئر مٹیریل اینڈ ایکوپمنٹ کارپوریشن (NUMEC) سے 93 کلوگرام ہائیلی اینرچڈ یورینیم کی پراسرار گمشدگی کی دسویں سالگرہ پر تحقیقات میں مصروف تھی۔ اس تحقیق کا مرکز NUMEC کے صدر، زلمان شاپیرو تھے—ایک پکے صہیونی، جن کے نہ صرف امریکی حکومت سے تعلقات تھے بلکہ اسرائیل میں وسیع تجارتی مفادات بھی۔ ان میں نیوکلیئر پاور جنریٹر بنانے کا ایک معاہدہ بھی شامل تھا۔

اگرچہ ایٹمی توانائی کمیشن، ایف بی آئی، سی آئی اے اور دیگر اداروں نے برسوں تک اس واقعے کی تحقیقات کیں، لیکن NUMEC اسکینڈل آج بھی باضابطہ طور پر "غیر حل شدہ” تصور کیا جاتا ہے۔ 1978 میں واشنگٹن کے کمپٹرولر جنرل کی جانب سے ایک سخت جائزے میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا:

“NUMEC واقعہ اور اس سے جڑی 13 سالہ تحقیقات اس بات کو اجاگر کرتی ہیں کہ امریکہ کے ادارے ایٹمی مواد کی ممکنہ چوری جیسے معاملات سے نمٹنے میں کس حد تک ناکام ہیں… ہمارا ماننا ہے کہ اگر امریکی ادارے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے، تو وہ بروقت کارروائی کر کے اس معاملے کو حل کر سکتے تھے۔ مگر بظاہر ان کی خواہش ہی نہیں تھی کہ یہ معاملہ حل ہو۔”

یہ واضح ہے کہ سی آئی اے، ایف بی آئی اور دیگر اداروں کے لیے یہ معاملہ حل کرنا کیوں ترجیح نہیں تھا—خصوصاً جب یہ مفاد اسرائیل سے جُڑا ہو۔ جے ایف کے کے قتل پر تحقیق کرنے والے ماہر جیفرسن مورلے نے مین اسٹریم امریکی میڈیا کو بتایا ہے کہ اینگلٹن نے نومبر 1959 میں لی ہاروی اوسوالڈ کو ایجنسی کی سخت نگرانی میں رکھا۔ ان کا کہنا تھا:

“اینگلٹن کے پاس کینیڈی کے ڈلاس روانہ ہونے سے ایک ہفتہ قبل اوسوالڈ کی 180 صفحات پر مشتمل فائل اس کی میز پر موجود تھی… اس کہانی سے ایک سوال اٹھتا ہے: کیا سی آئی اے لی ہاروی اوسوالڈ کے معاملے میں ناقابل یقین حد تک نااہل تھی، یا اینگلٹن واقعی اوسوالڈ کو کسی خفیہ آپریشن میں استعمال کر رہا تھا؟”

مقبول مضامین

مقبول مضامین