بدھ, فروری 18, 2026
ہوممضامینکیوں ایرانی جوابی کارروائیاں صہیونی دہشت گردی کا براہِ راست مقابلہ کریں...

کیوں ایرانی جوابی کارروائیاں صہیونی دہشت گردی کا براہِ راست مقابلہ کریں گی؟
ک

تحریر: حنان حسین

ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد اب تہران کی جانب سے جوابی کارروائیاں صرف غصے کا اظہار نہیں بلکہ ایک اصولی، قانونی اور دفاعی حکمتِ عملی کا آغاز ہیں۔ یہ محض ایک فوجی ردعمل نہیں، بلکہ ایک ایسے نئے مرحلے کی علامت ہے جہاں خطے کے مظلوموں کے لیے انصاف، اور قابض قوتوں کے لیے قیمت چکانے کا وقت آن پہنچا ہے۔

IAEA کا راز افشا اور اسرائیلی جارحیت

حالیہ رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) نے ایران کے ساتھ اپنی خفیہ خط و کتابت اسرائیل کو لیک کی۔ یہ صرف اخلاقی بددیانتی نہیں بلکہ عالمی اعتماد کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس انکشاف کے فوراً بعد اسرائیل نے ایران کے اندر رہائشی عمارتوں، جوہری تنصیبات اور فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔

ایران کے رہبر سید علی خامنہ ای نے دوٹوک الفاظ میں کہا:
"اس صہیونی حکومت کو شدید سزا کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اللہ کے فضل سے اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کا طاقتور بازو انہیں بغیر سزا کے نہیں چھوڑے گا۔”

دہشت گردی کی نئی شکل: اسرائیلی فضائی حملے

یہ اسرائیلی جارحیت حالیہ دہائیوں میں بدترین شمار کی جا رہی ہے۔ صرف تہران میں اب تک 100 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔ تقریباً 100 مختلف مقامات کو دشمن کے طیاروں نے نشانہ بنایا۔ یہ کاروائی واضح طور پر ریاستی دہشت گردی ہے۔

اسرائیل کی کوشش ہے کہ شہریوں، ایٹمی سائنس دانوں اور سینئر فوجی حکام کو نشانہ بنا کر تباہی کو معمول بنایا جائے تاکہ ایران میں خوف کی فضا پیدا ہو۔ تاہم، ایران نہ صرف شہداء کے جانشین تیزی سے تیار کر رہا ہے بلکہ اپنے حملے کے وقت اور شدت کا انتخاب خود کر رہا ہے۔ حالیہ فضائی جوابی کارروائی محض ایک ابتدائی مظاہرہ تھی۔ خود اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے تسلیم کیا ہے کہ ایران کے پاس "اہم صلاحیتیں” موجود ہیں جو اسرائیل کو دیوار سے لگا سکتی ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی روشنی میں ایران کا حق

ایران کی جوابی حکمت عملی بین الاقوامی قانون سے مطابقت رکھتی ہے، جس کے تحت کسی بھی ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، خصوصاً جب دشمن کھلے عام حملے کرے اور شہریوں کو نشانہ بنائے۔ نیتن یاہو نے اعلانیہ کہا کہ ان کی "کارروائیاں جب تک ضروری ہوں جاری رہیں گی”، جو اس بات کی تصدیق ہے کہ اسرائیل مسلسل بمباری کے ذریعے خطے میں دہشت کو معمول بنانا چاہتا ہے۔

ایران اس جارحیت کے خلاف تنہا نہیں۔ اس کے پاس نہ صرف جدید میزائل سسٹمز اور انٹیلیجنس کی طاقت ہے بلکہ ایک جنگ آزمودہ ذہنیت بھی ہے، جو کہ صہیونی دہشت گردی کو قیمت چکانے پر مجبور کر سکتی ہے۔ ایران کی کارروائیاں ہمیشہ درست وقت، صحیح جگہ اور جائز مقصد پر مبنی رہی ہیں۔ یہی وہ حکمتِ عملی ہے جو صہیونی حکومت کو سب سے زیادہ کھٹک رہی ہے۔

امریکی کردار اور منافقت

امریکہ چاہے کتنا بھی دعویٰ کرے کہ ان حملوں میں اس کا کوئی کردار نہیں، مگر حالیہ تاریخ واضح کرتی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اکثر ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایران پر اسرائیلی حملے کو "بہترین” قرار دیا تھا، اور مزید حملوں کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔ یہ واضح ثبوت ہے کہ امریکہ صہیونی دہشت گردی کے لیے سیاسی و سفارتی ڈھال فراہم کرتا رہا ہے۔

اسرائیل کو طاقت، حمایت، اور سفارتی تحفظ فراہم کرنے میں امریکہ کا کردار مرکزی رہا ہے — چاہے وہ غیر قانونی قبضے کی مالی امداد ہو، انٹیلیجنس کا اشتراک، یا بین الاقوامی محاذ پر اسرائیل کے جرائم کی پردہ پوشی۔

جنگ کا باضابطہ اعلان

تہران اب اسرائیل کی نسل کشی مہم کو کھلا ہوا اعلانِ جنگ قرار دے چکا ہے۔ یہ وہ موڑ ہے جہاں کسی بھی قسم کی سفارتی جھوٹی غیر جانبداری بے معنی ہو چکی ہے۔ ایران اب اصولی اور جائز جنگِ دفاع میں داخل ہو چکا ہے — اور اگر کوئی ریاست ایسے حالات میں جوابی کارروائی نہ کرے، تو وہ نہ صرف اپنی عوام سے بلکہ اپنے ریاستی وجود اور خطے میں امن کے ضامن کردار سے بھی ناانصافی کرے گی۔

نتیجہ: صہیونی دہشت گردی کو مستحق جواب

اسرائیل نے فلسطینیوں کے خلاف ظلم کو بنیاد بنا کر ایران کی خودمختاری پر حملے کیے۔ اب جبکہ دنیا اسرائیلی جنگی جرائم پر آواز بلند کر رہی ہے، نیتن یاہو تہران پر حملے کو ایک "موقع” سمجھ رہے ہیں۔ مگر ایران کی جوابی کارروائیاں اس صہیونی دہشت گردی کو وہ دھچکا دینے جا رہی ہیں جو اسے برسوں پہلے دیا جانا چاہیے تھا۔

یہ معرکہ اب صرف ایک دفاعی جنگ نہیں، بلکہ انصاف، مزاحمت اور اصولی خودداری کی جنگ ہے۔ اور ایران نے اس جنگ کا آغاز پوری جرأت اور قانونی جواز کے ساتھ کر دیا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین