تحریر: دیمیتری کووالیوچ
جون کے آغاز میں کیف حکومت نے جبری بھرتی کے قوانین مزید سخت کر دیے، حالانکہ یوکرینی فوجیوں اور معاون عملے کی اموات اور زخمیوں کی تعداد بدستور بڑھ رہی ہے۔ یوکرین کے محاذِ جنگ پر موجود خلا کو غیر رضاکار، مجبور اور اکثر بیمار سپاہیوں سے پُر کیا جا رہا ہے، جن کی حالت جنگی محاذ کے لیے موزوں نہیں۔
یوکرینی حکام کے لیے یہ انسانی المیہ درحقیقت مغربی مالی و عسکری امداد کی بنیاد ہے۔ اگر یوکرین اپنے افرادی نقصانات پورے نہ کر سکا اور روس کی پیش قدمی ناقابلِ روک ثابت ہوئی تو مغرب کو امداد روکنا پڑ سکتی ہے اور مذاکرات کی راہ اپنانا ناگزیر ہو جائے گی۔
معاشی بحران اور دیوالیہ پن
جون کے اوائل میں یوکرین نے باضابطہ طور پر مالیاتی دیوالیہ پن کا اعلان کر دیا۔ وزارتِ خزانہ نے 2.6 ارب ڈالر کے قرض پر واجب الادا 665 ملین ڈالر کی قسط ادا کرنے سے انکار کیا۔ عام طور پر ایسا اقدام کسی ریاست کو معاشی طور پر مفلوج کر دیتا ہے، لیکن یوکرین برسوں سے مغربی مالی امداد پر چل رہا ہے۔ مغربی مالیاتی ادارے اس کے بینکنگ سسٹم کے نگہبان بن چکے ہیں۔ ایسی چھوٹ ترقی پذیر ممالک کو نہیں دی جاتی۔
مغربی سرمایہ داری کی حقیقت یہی ہے۔ مغربی طاقتیں کیف کو اربوں ڈالر دینے پر آمادہ ہیں، گو علم ہے کہ یوکرین کبھی قرض واپس نہیں کرے گا۔ یہ سب دراصل روسی وسائل پر قبضے اور عالمی جنوب کے ممالک کو تابع بنانے کے خواب کی سرمایہ کاری ہے۔
یوکرینی تجزیہ کار روسلان بورٹنک کے مطابق، "آج کے روسی عوام پچھلے سو سال کے مقابلے میں بہتر معاشی حالت میں ہیں۔” مغربی پابندیوں نے روس کو خود کفیل بنا دیا ہے؛ اندرونِ ملک پیداوار اور روزگار میں اضافہ ہوا ہے، اور سماجی تحفظ بہتر ہوا ہے۔
یوکرین اب بھی یورپ کا غریب ترین ملک ہے۔ 2022 میں اس کی اجرتیں مالدووا سے بھی نیچے گئیں، جب کہ 2025 میں اشیاء کی قیمتیں پورے براعظم میں سب سے زیادہ ہیں۔
جبری بھرتی کے خلاف عوامی مزاحمت
مئی کے آخر اور جون کے آغاز میں یوکرین کے مختلف شہروں میں جبری فوجی بھرتی کے خلاف مظاہرے اور جھڑپیں ہوئیں، جنہیں ریاستی طاقت سے دبایا گیا۔ مغربی ذرائع ابلاغ نے ہمیشہ کی طرح ان واقعات کو نظر انداز کیا۔ اگر ایسا منظر روس، چین یا ایران میں ہوتا، تو یہی مغربی میڈیا کا مرکزی موضوع ہوتا۔
29 مئی کو مغربی یوکرین کے شہر "کامینیٹس-پودلسکی” میں مقامی شہریوں اور فوجی بھرتی کاروں کے درمیان شدید تصادم ہوا۔ جب بھرتی کاروں نے ایک شخص کو زبردستی گاڑی میں ڈالا، تو 100 کے قریب افراد نے گاڑی کا گھیراؤ کر لیا، شیشے توڑے، ٹائروں کو چاقو سے کاٹا اور نعرے لگائے: "شرم کرو!”۔ پولیس دیر سے پہنچی، تب تک مظاہرین مکمل مزاحمت کا فیصلہ کر چکے تھے۔ اطلاعات کے مطابق، بھرتی کار نشے میں تھے، اور ایک بوڑھی خاتون کو گاڑی تلے کچل دیا گیا، ایک بچی کو گاڑی سے دبایا گیا، اور ایک لڑکے کو زد و کوب کیا گیا۔
ٹیلیگرام چینل "ریزیڈنٹ” کے مطابق، "بینکوفا (یوکرینی صدارتی کمپلیکس) میں موجود لوگ جانتے ہیں کہ سیاسی ماحول بگڑ رہا ہے، لیکن وہ عوام کو لالی پاپ دینے کی بجائے دھونس، گرفتاریوں اور خوف کی پالیسی اختیار کر چکے ہیں۔ مگر یوکرین کے شہری اب کھلے عام فوجی بھرتی کی مزاحمت پر آمادہ ہیں۔”
اسی طرح چیرکاسی اور کریمنچک شہروں میں ‘بس کاری’ (Busification) کے خلاف احتجاج ہوا، جس میں عوام نے بھرتی کاروں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ ‘بس کاری’ یوکرینی زبان میں نیا اصطلاح ہے جو ان بسوں کو ظاہر کرتی ہے جن کے ذریعے جبری طور پر نوجوانوں کو محاذ پر بھیجا جاتا ہے۔
یوکرینی رکنِ اسمبلی ویتالی وویتسیکھوفسکی نے اس رویے کو "حیوانی جبلت” قرار دیا اور لکھا، "بھرتی کرنے والوں کو لوگوں کو ہراساں کرنے اور مارنے میں مزہ آتا ہے۔”
سیاسی ہتھیار بنتی جبری بھرتی
"مارکسی پلیٹ فارم آف یوکرین” (جو مارشل لا کے تحت ممنوع ہے) نے یکم جون کو ایک تجزیہ شائع کیا جس میں کہا گیا کہ جبری بھرتی اب ایک سیاسی ہتھیار بن چکی ہے۔ "ایک غلام اپنی آزادی کا خواب نہیں دیکھتا بلکہ دوسروں کو غلام بنانے کا خواب دیکھتا ہے۔”
"یہی لوگ پولیس فورس کے لیے سب سے موزوں ہیں، جو ٹولیوں کی صورت لوگوں کو پکڑنے نکلتے ہیں۔ صدر زیلنسکی اور ان کے مشیر یرماک کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ انسانی قیمت کیا ہے، یا ان کے اہلکار کس حد تک جائیں گے۔ ان کے نزدیک جنگ میں سب جائز ہے، اور موت بعض حلقوں کے لیے منافع کا ذریعہ ہے۔”
تجزیہ میں مزید کہا گیا، "اگر کوئی صحافی، وکیل یا بلاگر حکومت کی مرضی کے خلاف بات کرے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے اسے جبری بھرتی کے ذریعے خاموش کرا دیتے ہیں۔ ایک کو اغوا کیا جائے تاکہ باقی سب ڈر جائیں۔”

