بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیایرانی حملے: اسرائیل کو یومیہ 1.5 ارب ڈالر کا نقصان

ایرانی حملے: اسرائیل کو یومیہ 1.5 ارب ڈالر کا نقصان
ا

ایرانی حملوں نے اسرائیلی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں روزانہ تقریباً 1.5 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو رہا ہے۔ معاشی ماہر عماد عکوش کے مطابق اسرائیل کو براہ راست نقصانات (فوجی، مواصلاتی، انسانی) کے ساتھ ساتھ بالواسطہ نقصانات جیسے سرمایہ کاری کا انخلا، الٹا ہجرت (Reverse Migration) اور معاشی سرگرمیوں کی معطلی کا سامنا ہے۔

خدمات، صنعت، سیاحت اور ٹیکنالوجی پر مبنی اسرائیلی معیشت، جس کی کل مالیت تقریباً 540 ارب ڈالر ہے، مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے۔ گیس کی پیداوار، جو روزانہ 30 ملین مکعب میٹر تھی، بند ہو گئی ہے، جب کہ سیاحت، زرعی پیداوار اور بجلی کی فراہمی کے شعبے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

یمنی افواج کی طرف سے لود ایئرپورٹ کی ناکہ بندی اور ایرانی حملوں نے سیاحت کو تقریباً تباہ کر دیا ہے، جو پہلے 4.5 ملین سیاحوں پر مشتمل تھی اور اب 80 فیصد کمی کے ساتھ صرف 1 ملین رہ گئی ہے۔ بے روزگاری کی شرح میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

مالیاتی بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے، کیونکہ اسرائیل کے 380 ارب ڈالر کے سرکاری قرضے پر سود کی ادائیگی مہنگی ہوتی جا رہی ہے، اور بینکوں پر عوامی اعتماد میں کمی کے باعث ممکنہ معاشی بدحالی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

توانائی کے شعبے میں گیس اور تیل کی مقامی پیداوار کے خاتمے نے ایندھن اور بجلی کی فراہمی کو متاثر کیا ہے، جب کہ ‘گوش دان’ جیسے اہم صنعتی اور معاشی مراکز پر ایرانی حملے اسرائیل کے معاشی دل کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

مجموعی طور پر، ایران کے حملوں نے اسرائیلی معیشت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں، اور طویل جنگ کی صورت میں یہ بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین