بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیتہران: اسرائیل کا امریکی ہتھیاروں سے ایرانی شہریوں پر حملہ، مذاکرات کو...

تہران: اسرائیل کا امریکی ہتھیاروں سے ایرانی شہریوں پر حملہ، مذاکرات کو بے معنی قرار
ت

تہران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے ایران پر حملے میں امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ ہتھیار استعمال کیے، اور تہران اس جارحیت کا براہ راست ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہراتا ہے۔ پیر کو اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ جمعے کی صبح جب ایرانی عوام عید کی تیاری میں مصروف تھے، صہیونی حکومت نے امریکی ہتھیاروں سے ایران کی سرزمین پر حملہ کیا۔ اس حملے میں ایران کے کئی ممتاز فوجی کمانڈر، ایٹمی سائنس دان، خواتین، بچے اور دیگر شہری شہید ہوئے۔ شہداء میں میجر جنرل محمد باقری، جنرل حسین سلامی، بریگیڈیئر جنرل امیر علی حاجی زادہ، جنرل غلام علی رشید، اور تین معروف ایٹمی سائنس دان شامل تھے۔ ترجمان نے کہا کہ امریکہ نہ صرف اس حملے کی حمایت میں شریک ہے بلکہ ہر خون کے قطرے کا شریکِ جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی قسم کے مذاکرات بے معنی ہو چکے ہیں، کیونکہ جب ایک طرف مذاکرات جاری ہوں اور دوسری جانب اسی وقت ایران پر بمباری ہو، تو یہ کھلا تضاد ہے۔ بقائی نے مزید کہا کہ جب تک صہیونی جارحیت بند نہیں ہوتی، ایران اپنی قومی خودمختاری اور عوام کے تحفظ کے لیے دفاع کرتا رہے گا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی حملوں کی مذمت کریں، بالخصوص ایران کے نیوکلیئر تنصیبات پر کیے گئے حملے، جو کہ عالمی عدمِ پھیلاؤ کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین