دانشگاه (نیوز ڈیسک) تہران :
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی نطنز جوہری تنصیب پر اسرائیلی حملہ بین الاقوامی قانون اور جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کی صریح خلاف ورزی ہے، جسے عالمی برادری کو شدید ترین الفاظ میں مسترد کرنا چاہیے۔
یہ بات انہوں نے اتوار کے روز اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مانوئل آلباریس بوینو سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے ایک بار پھر اس امر پر زور دیا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔
عراقچی کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی پرامن جوہری تنصیبات پر حملہ عالمی قوانین کے تحت قطعی طور پر ممنوع ہے، خاص طور پر جب ایران کا پروگرام اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کی سخت ترین نگرانی میں ہے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے تحت اس کی توثیق ہو چکی ہے۔
انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ تمام ممالک اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کو چاہیے کہ وہ اسرائیلی جارحیت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کریں۔
واضح رہے کہ جمعہ کی صبح، امریکہ کی حمایت یافتہ اسرائیلی ریاست نے ایران کے مختلف شہروں، بشمول تہران، میں وسیع پیمانے پر حملے کیے جن کا ہدف جوہری تنصیبات، عسکری ڈھانچے اور رہائشی عمارتیں تھیں۔
نطنز کی جوہری تنصیب، جو اصفہان کے قریب واقع ہے، بھی ان حملوں کی زد میں آئی، تاہم زیرِ زمین سینٹری فیوجز محفوظ رہے، جس کے باعث صرف سطحی نقصان ہوا اور کوئی جانی نقصان یا تابکاری کی اطلاع نہیں ملی۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق، اسرائیلی ریاست نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ حملہ ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف ایک واضح اقدام تھا، اور اسے ایسے وقت انجام دیا گیا جب محض دو دن بعد مسقط میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا نیا دور طے تھا۔
عراقچی کا مؤقف تھا کہ اس جارحیت کا بنیادی مقصد سفارتی عمل کو نقصان پہنچانا اور خطے کے دیگر ممالک کو ایک غیر منصفانہ جنگ میں جھونکنا تھا۔
انہوں نے اسرائیلی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رہائشی علاقوں پر حملے، خواتین اور بچوں کی ہلاکتیں، اسرائیلی ریاست کے طرزِ عمل کا تسلسل ہیں، اور ایسے میں دفاع ناگزیر ردِعمل ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی مسلح افواج، قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عام شہریوں کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر سوچے سمجھے دفاعی اقدامات جاری رکھیں گی۔
دوسری جانب، اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مانوئل آلباریس بوینو نے خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ان کا ملک کشیدگی کم کرنے کی ہر ممکن کوشش میں ایران کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔

