دانشگاه (نیوز ڈیسک) مشرق وسطیٰ:
اسلامی جمہوریہ ایران کے آپریشن "سچا وعدہ III” کے تحت کیے گئے تازہ میزائل حملوں کے نتیجے میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے شہروں حیفا اور یافا زوردار دھماکوں سے لرز اٹھے۔ یافا، جسے اسرائیلی قابض حکومت "تل ابیب” کہتی ہے، میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ حیفا میں بھی زور دار دھماکوں کی اطلاع ملی ہے۔
عبرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ مقبوضہ فلسطین کے شمالی حصے میں ایک عمارت کو میزائل نے براہ راست نشانہ بنایا، جس کے بعد علاقے میں دھوئیں کے بادل چھا گئے۔ امدادی ادارے فوری طور پر موقع پر پہنچے اور اسرائیلی ایمبولینسوں نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنا شروع کر دیا۔
ایران کی مسلح افواج نے حملوں سے قبل ایک سخت انتباہ جاری کیا تھا، جس میں صہیونی آبادکاروں کو فوری طور پر مقبوضہ علاقوں سے نکل جانے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ سرکاری بیان میں خبردار کیا گیا کہ یہ علاقے جلد ناقابلِ رہائش بن جائیں گے۔
ایران نے تصدیق کی ہے کہ اس کے پاس مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں موجود تمام اہم تنصیبات کی مکمل فہرست موجود ہے، اور ان سب کو مستقبل میں نشانہ بنایا جائے گا۔ ایرانی فورسز نے آبادکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
"مجرم حکومت کو تمہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال نہ کرنے دو۔”
گزشتہ دو دنوں سے اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے اسرائیلی بستیوں پر شدید بمباری کی جا رہی ہے۔ یہ کارروائیاں اسرائیلی جارحیت کے جواب میں کی جا رہی ہیں، جس میں گزشتہ جمعہ کو ایران کے سینئر فوجی کمانڈرز اور ایٹمی سائنس دان شہید ہوئے، اور حساس ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
جوابی کارروائی کے طور پر جمعہ کی شب اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے "سچا وعدہ III” کے نام سے وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کیا، جس میں اسرائیلی قابض علاقوں کی جانب متعدد میزائل داغے گئے۔
ان حملوں میں حیفا سمیت کئی اہم عسکری اور صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں تیل صاف کرنے والے کارخانے اور بجلی کے گرڈ شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، ہفتہ کی رات حیفا میں ان حملوں کے باعث بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی حکومت نے جارحیت کا سلسلہ جاری رکھا تو اس کا ردعمل مزید شدید اور تباہ کن ہوگا۔

