دانشگاه (نیوز ڈیسک) مشرق وسطیٰ:
اسرائیلی امور کے محقق و مصنف، نزار نزال نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی خودمختاری پر صہیونی جارحیت کے فیصلے میں سنگین غلطیاں کی گئیں، جس کے نتائج نے صہیونی حلقوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے بھرپور ردعمل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
نزال کے مطابق، ایران کے جوابی حملوں کے بعد اسرائیلی معاشرے میں شدید غم و غصے اور بے چینی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں مقبوضہ علاقوں میں تقریباً مکمل بندش دیکھنے میں آئی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اسرائیلی معیشت اس وقت شدید جمود کا شکار ہے اور اہم شعبے بند ہو چکے ہیں۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اب صہیونی حلقے امریکہ اور مغربی اتحادیوں سے ایران کے خلاف مداخلت کی اپیلیں کر رہے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صہیونی حکومت کو غیر معمولی نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق، 50 لاکھ سے زائد صہیونی شہری پناہ گاہوں میں چھپنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
نزال کا کہنا ہے کہ وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اسرائیلی ریاست کو شکست کے دلدل سے نکالنے کے بجائے مکمل تباہی اور ممکنہ انتشار کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے ایران پر جارحیت کا مقصد اسلامی جمہوریہ کی حکومت کو غیر مستحکم کرنا یا گرانا تھا، لیکن یہ خواہشات ایران کے مضبوط عسکری نظام اور قیادت کے لیے عوامی حمایت کے باعث ناکام ہوں گی۔
نزال نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل اور ایران کے درمیان براہ راست تصادم ہوا تو پورا خطہ لپیٹ میں آ جائے گا، اور مشرق وسطیٰ کے کسی بھی ملک کو اس کے اثرات سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔
واضح رہے کہ جمعہ اور ہفتہ کو ایران نے اسرائیلی جارحیت کے جواب میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کئی مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ ان حملوں کے نتیجے میں تل ابیب، حیفا اور دیگر شہروں میں بے مثال تباہی ہوئی۔

