دانشگاه (نیوز ڈیسک) صنعا / بیروت / تہران :
مشرقِ وسطیٰ کے امور پر نظر رکھنے والے معروف تزویراتی تجزیہ کار محمد حزامیہ نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے جاری فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں "اسرائیلی” وجود مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق ایران اور صہیونی حکومت کے درمیان یہ کشمکش محض عارضی تنازع نہیں بلکہ ایک ابدی اور وجودی جنگ ہے۔
"ایران فلسطینی مزاحمت کا بنیادی ستون”
حزامیہ نے کہا کہ امریکہ اور صہیونی حکومت ایران کو اس لیے دشمن سمجھتے ہیں کیونکہ وہ فلسطینی مزاحمتی تحریک کا سب سے مضبوط حامی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکی و صہیونی طاقتیں "گریٹر اسرائیل” کے منصوبے کو آگے بڑھا رہی ہیں، جس کی راہ میں اسلامی جمہوریہ ایران اور مزاحمتی محور (Axis of Resistance) بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔
انہوں نے ایران پر حملے کو صہیونی حکومت کی ایک بزدلانہ اور خطرناک اسٹریٹیجک غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی قدم اس کی مکمل شکست و زوال کا پیش خیمہ بنے گا۔
"ایران کی حکمت عملی متوازن اور فیصلہ کن”
حزامیہ کا کہنا تھا کہ ایران بڑی حکمت اور اسٹریٹیجک توازن کے ساتھ یہ معرکہ لڑ رہا ہے—ایک طرف جارحانہ کارروائیاں، تو دوسری طرف مضبوط دفاعی حکمت عملی۔
"ایران کے ابتدائی جوابی حملوں کے دوران امریکی حکام شدید الجھن کا شکار تھے، جبکہ مغربی اتحادی ممالک نے خاموشی اختیار کی۔”
انہوں نے کہا کہ ایران اس تنازعے کو امریکی تسلط اور یک قطبی عالمی نظام کے خاتمے کی جدوجہد سمجھتا ہے، اور ایک کثیر القطبی عالمی نظام کے قیام کے لیے سرگرم ہے۔
"نئے عالمی نظم کی ولادت مشرق وسطیٰ سے ہوگی”
حزامیہ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ عشروں سے امریکی بالادستی کا شکار ہے، اور اب یہی خطہ نئے عالمی نظم کی جائے ولادت بننے والا ہے، جس کے لیے ایران بھرپور مزاحمت کر رہا ہے۔
انہوں نے صہیونی حملے کو "غرور پر مبنی احمقانہ اقدام” قرار دیا، اور کہا کہ ایران کی جوابی کارروائی نہایت سوچے سمجھے انداز میں فتح کی سمت گامزن ہے۔
150 سے زائد اہداف پر حملے: ایرانی وزیرِ دفاع
ایرانی وزیرِ دفاع بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے جوابی حملے میں 150 سے زائد اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں اسرائیلی فوج کے کئی حساس عسکری اڈے شامل تھے۔
یہ آپریشن اسرائیلی فوج کی جانب سے ایرانی فوجی کمانڈروں، جوہری سائنس دانوں اور 70 سے زائد عام شہریوں (جن میں خواتین و بچے بھی شامل تھے) کی ہلاکت پر ردعمل کے طور پر کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی حمایت یافتہ "تل ابیب حکومت” نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی جارحیت کی، جس میں جوہری تنصیبات، فوجی ڈھانچے اور تہران سمیت دیگر شہروں کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

