دانشگاه (نیوز ڈیسک) تہران :
ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے "اسرائیل” کے معروف وائزمین انسٹیٹیوٹ آف سائنس پر میزائل حملہ کیا ہے، جو مقبوضہ شہر رحووت (Rehovot) میں واقع ہے۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، یہ حملہ ان ایرانی جوہری سائنسدانوں کے قتل کے جواب میں کیا گیا ہے جنہیں اسرائیلی کارروائیوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
وائزمین انسٹیٹیوٹ کو اسرائیل کے اہم ترین سائنسی تحقیقی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں نہ صرف جدید سائنسی و سیکیورٹی تحقیق ہوتی ہے بلکہ ہتھیار سازی سے متعلق منصوبوں پر بھی کام کیا جاتا ہے۔ ایران کے لیے یہ انسٹیٹیوٹ ممکنہ طور پر ایک تزویراتی ہدف تھا۔
نیویارک ٹائمز نے حملے کی تصدیق کر دی
نیویارک ٹائمز نے سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے تصدیق کی ہے کہ وائزمین انسٹیٹیوٹ ایرانی حملے میں متاثر ہوا۔
اس کے علاوہ، سی سی ٹی وی فوٹیج سے بھی اس مقام پر میزائل گرنے کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، انسٹیٹیوٹ کی تجربہ گاہوں والے ایک عمارت میں آگ لگ گئی جس کے باعث کئی افراد اندر پھنس گئے۔
’آپریشن ٹرو پرامس 3‘: مقبوضہ فلسطین میں گہرائی تک ایرانی حملے
ایران نے گزشتہ شب ڈرونز اور میزائلوں کی ایک بڑی لہر کے ذریعے مقبوضہ فلسطین کے متعدد شہروں پر حملے کیے۔
تل ابیب، بات یام اور دیگر علاقوں میں فضائی حملے کے سائرن بجتے رہے اور ڈرونز کے مسلسل حملوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، تل ابیب میں چھ مقامات پر ایرانی میزائلوں نے براہ راست ضربیں لگائیں، جن میں ایک بلند و بالا عمارت بھی شامل ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں شدید تباہی، آگ، اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
بات یام میں وسیع تباہی
تل ابیب کے جنوب میں واقع مقبوضہ شہر بات یام میں بھی درجنوں عمارتوں کو نقصان پہنچا اور کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔
یہ حملے ایران کی جانب سے "بلاجواب جارحیت کے خاتمے کا اعلان” سمجھے جا رہے ہیں، اور "آپریشن ٹرو پرامس 3” کا حصہ ہیں۔

