دانشگاه (نیوز ڈیسک) واشنگٹن :
امریکہ بھر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فوجی پریڈ کے خلاف ہفتہ کے روز "نو کنگز” (No Kings) کے عنوان سے 50 لاکھ سے زائد افراد نے 2,100 شہروں اور قصبوں میں احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی، جو ان کے دوسرے دورِ صدارت کے دوران اب تک کا سب سے بڑا مظاہرہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ مظاہرے ٹرمپ کی 79ویں سالگرہ اور امریکی فوج کے 250ویں یومِ تاسیس کی مناسبت سے منعقدہ پریڈ کے ردعمل میں منظم کیے گئے۔
فلاڈیلفیا اور شکاگو جیسے بڑے شہروں میں بالترتیب ایک لاکھ اور 75 ہزار مظاہرین نے شرکت کی، جبکہ مشی گن کے چھوٹے قصبے پینٹ لینڈ میں — جس کی آبادی صرف 800 ہے — 400 افراد احتجاج میں شریک ہوئے۔
اس تحریک کے تحت تقریباً 300 "Kick Out the Clowns” ریلیاں بھی منعقد ہوئیں۔
منتظمین کے مطابق مظاہرے ہر طبقے، نسل، اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کی وسیع شرکت کی علامت ہیں، جو امریکہ میں آمرانہ طرزِ حکمرانی اور بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے متحد ہوئے۔
پرتشدد جھڑپیں اور گرفتاریاں
لاس اینجلس میں صورتحال اس وقت بگڑ گئی جب پولیس نے مظاہرین پر پتھر، اینٹیں، بوتلیں، اور آتش گیر مواد پھینکنے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں منتشر ہونے کا حکم دیا۔ مظاہرین نے پولیس پر انتہائی جارحانہ اقدامات کا الزام عائد کیا۔
شیرف رابرٹ لونا کے مطابق، پولیس نے صرف اس وقت "کم مہلک” ہتھیار استعمال کیے جب انہیں حملے کا سامنا کرنا پڑا۔
منیسوٹا میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ریاستی ڈیموکریٹک لیڈر میلسا ہارٹمین اور ان کے شوہر ہلاک ہو گئے، جس کے باعث کئی تقریبات منسوخ کی گئیں — تاہم مظاہرین نے احتجاج جاری رکھا۔
ٹیکساس میں ایک شخص کو آسٹن میں مظاہرے میں شریک قانون سازوں کو دھمکانے پر گرفتار کیا گیا، جس کے بعد ریاستی اسمبلی کو کچھ دیر کے لیے خالی کرایا گیا۔
ورجینیا کے شہر کلپیپر میں پولیس نے ایک 21 سالہ شخص کو گرفتار کیا، جس پر مظاہرین پر گاڑی چڑھانے کی کوشش کا الزام ہے — خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
سیاسی ردعمل اور سیکیورٹی اقدامات
صدر ٹرمپ نے مظاہرین کے خلاف "انتہائی طاقت کے استعمال” کی دھمکی دی، اور لاس اینجلس میں مظاہروں کے پیش نظر نیشنل گارڈ اور امریکی میرینز کو تعینات کر دیا۔
کئی حلقوں نے ٹرمپ کی پریڈ کو آمرانہ قوت کا مظاہرہ قرار دیا ہے، نہ کہ قومی جشن۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ "نو کنگز” کے منتظمین نے جان بوجھ کر واشنگٹن ڈی سی میں مظاہرہ کرنے سے گریز کیا تاکہ ٹرمپ کی فوجی پریڈ میں رکاوٹ نہ ہو — بلکہ ان کا مقصد ملک بھر میں عوامی بیداری کو مرکزی کہانی بنانا تھا۔
منتظمین نے کہا کہ
ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم صدر کی سالگرہ کی پریڈ کو توجہ کا مرکز نہیں بنائیں گے بلکہ پورے ملک میں عوامی کارروائی کو امریکہ کی اصل کہانی بنائیں گے۔
تنقید: فوجی پریڈ یا ذاتی تسکین؟
"نو کنگز” تحریک میں شرکت کرنے والوں کی تعداد "ہینڈز آف!” نامی پچھلی بڑی ریلیوں سے بھی 20 لاکھ زیادہ تھی۔
کئی ماہرین اور سینیٹر ٹیمی ڈک ورتھ جیسے سیاستدانوں نے اس پریڈ کو ٹرمپ کے ذاتی انا کی تسکین قرار دیا۔
ڈک ورتھ نے کانگریس میں کہا کہ
یہ پریڈ امریکی فوج کی سالگرہ کے لیے نہیں، بلکہ صرف اور صرف ڈونلڈ ٹرمپ کے غرور کے لیے ہے۔
پریڈ پر آنے والا خرچ 25 سے 45 ملین ڈالر کے درمیان بتایا جا رہا ہے — جس پر بجٹ کٹوتیوں کے ماحول میں شدید تنقید ہو رہی ہے۔

