دانشگاه (نیوز ڈیسک) تہران – ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد قابض صہیونی علاقوں میں وسیع پیمانے پر تباہی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
یہ حملے تل ابیب، بات یام، اور ریشون لِیسیون سمیت متعدد اہم شہروں پر کیے گئے، جن میں سب سے نمایاں نشانہ ویزمین انسٹیٹیوٹ آف سائنس بنا، جو اسرائیل کے عسکری و سائنسی نظام کا بنیادی ستون تصور کیا جاتا ہے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے تسلیم کیا ہے کہ یہ حملے "بےمثال شدت” کے حامل تھے۔
تل ابیب فرنٹ کمانڈ کے سربراہ مائیکل ڈیوڈ نے اسرائیلی اخبار یَنِت کو بتایا:
"یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی مثال ہماری تاریخ میں نہیں ملتی۔”
تل ابیب، بات یام اور ریشون لِیسیون: تباہی کے مناظر
بات یام کے میئر زویوکا بروٹ کے مطابق شہر میں 61 عمارتیں متاثر ہوئیں، جن میں سے چھ کو مکمل طور پر گرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ریشون لِیسیون میں بھی صورتحال انتہائی سنگین رہی، جہاں دو اسرائیلی شہری ہلاک اور 19 زخمی ہوئے۔ درجنوں گاڑیاں تباہ ہوئیں، چھتیں منہدم ہو گئیں اور گلیوں میں ملبہ بکھر گیا۔ ایک کار پر گرد میں لکھا پیغام نمایاں تھا:
"کب تک؟”
ایک بزرگ صہیونی آبادکار باروخ، جو چھ روزہ جنگ میں شریک رہے، نے اسرائیلی اخبار معاریو کو بتایا:
"میں نے اپنی زندگی میں ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا… میں واقعی خوفزدہ ہو گیا تھا۔”
ویزمین انسٹیٹیوٹ پر حملہ: ایرانی سائنسدانوں کا انتقام
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے ویزمین انسٹیٹیوٹ کو پہنچنے والے نقصان کی تصدیق ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ CCTV فوٹیج نے بھی میزائل حملے کے مناظر کو محفوظ کیا ہے، جبکہ اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ انسٹیٹیوٹ کی ایک لیبارٹری میں آگ لگ گئی، جس میں کئی افراد پھنس گئے تھے۔
یہ حملہ تہران میں ایرانی جوہری سائنسدانوں کے قتل کے ردعمل میں کیا گیا، جیسا کہ فارس نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا۔ ویزمین انسٹیٹیوٹ کو اسرائیل کا سب سے اہم سائنسی تحقیقی مرکز مانا جاتا ہے، جہاں سیکورٹی، دفاعی تحقیق، اور اسلحہ سازی کے منصوبے جاری تھے — جو ممکنہ طور پر اسے ایرانی حملے کا ہدف بنانے کا سبب بنے۔
اسرائیلی سنسرشپ اور ایرانی مؤقف
اسرائیلی فوج نے حملے کے مقامات اور ویڈیوز کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ "دشمن فوٹیج کا تجزیہ کر کے آئندہ حملوں میں بہتری لا سکتا ہے”۔
تاہم، اس سنسرشپ نے تباہی کے حقیقی پیمانے اور جانی نقصان سے متعلق قیاس آرائیوں کو مزید ہوا دی ہے۔
یہ تمام کارروائی اس وقت ہوئی جب اسرائیلی فضائیہ نے تہران میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا، جس میں 60 شہری شہید ہوئے، جن میں 20 بچے بھی شامل تھے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق، اس قتل عام کے جواب میں یہ کارروائی صرف عسکری پیغام نہیں بلکہ ایک اخلاقی موقف بھی تھی — اور یہ اعلان کہ صہیونی جارحیت کا دور اب بےجواب نہیں رہے گا۔

