منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیصدر ٹرمپ کی فوجی پریڈ، امریکہ بھر میں احتجاجی مظاہرے

صدر ٹرمپ کی فوجی پریڈ، امریکہ بھر میں احتجاجی مظاہرے
ص

دانشگاه (نیوز ڈیسک) واشنگٹن – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز واشنگٹن ڈی سی میں ایک عظیم فوجی پریڈ کا انعقاد کیا، جو ایک جانب امریکی فوج کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر تھی اور دوسری جانب صدر کے 79ویں یومِ پیدائش کے ساتھ بھی منسلک رہی، لیکن ملک بھر میں جاری عوامی احتجاج نے اس تقریب پر گہرے سیاسی اثرات ڈالے۔

پریڈ میں ٹینکوں کی نمائش، فضائی فلائی اوور، اور فوجی دستوں کی مارچ شامل تھی، تاہم اسی روز امریکہ کی مختلف ریاستوں میں "نو کنگز” کے بینر تلے لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔

"نو کنگز” تحریک کے منتظمین نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ بھر کے 1,500 شہروں میں لاکھوں افراد شرکت کریں گے۔ نیویارک، لاس اینجلس، واشنگٹن، ہیوسٹن، اور اٹلانٹا سمیت کئی بڑے شہروں میں مظاہرے کیے گئے۔

لاس اینجلس میں ہزاروں مظاہرین اس وقت سڑکوں پر نکل آئے جب امیگریشن چھاپوں کے بعد کشیدگی بڑھ گئی اور صدر ٹرمپ نے وہاں فوج تعینات کر دی۔ مظاہرین نے اس اقدام کو آمریت سے تعبیر کیا اور "نو کنگز” کے نعرے لگائے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ان مظاہروں کو کم اہمیت دیتے ہوئے انہیں "ناکام کوشش” قرار دیا۔
وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر، اسٹیون چیونگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر کہا:

"نام نہاد ‘نو کنگز’ مظاہرے مکمل طور پر ناکام رہے ہیں، جن میں شرکت نہ ہونے کے برابر تھی۔”
حالانکہ مختلف شہروں کی تصاویر اور ویڈیوز بڑے عوامی اجتماعات کی گواہی دے رہی تھیں۔

پریڈ کے موقع پر منیسوٹا میں ایک ڈیموکریٹک خاتون قانون ساز اور ان کے شوہر کے قتل کی خبر نے بھی فضا کو سوگوار کر دیا۔

سابق ریاستی اسپیکر ملیسا ہورٹمین اور ان کے شوہر مینیاپولس کے قریب حملے میں ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک اور قانون ساز اور ان کی اہلیہ کو گولیوں کے زخموں کے ساتھ اسپتال منتقل کیا گیا۔

صدر ٹرمپ نے اس واقعے کی شدید مذمت کی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین